اصحاب احمد (جلد 9) — Page 423
۴۲۳ ہمارے ان اسلاف کا اسوہ کیا تھا؟ ایک زخمی صحابی جو جان تو ڑ رہے تھے اقارب کے لئے پیغام پوچھے جانے پر پیغام دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم ایک خدائی امانت ہیں جب تک ہم زندہ رہے ہم نے اس کی حفاظت کی اب یہ مقدس امانت تمہارے سپرد ہے۔اس لئے اسے اپنی جانوں سے زیادہ عزیز رکھنا اور اس کی خاطر کسی قربانی سے بھی دریغ نہ کرنا۔ایک مشورہ کے موقعہ پر دریافت کرنے پر ایک انصاری نے عرض کیا یا رسول اللہ صلعم ! ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی۔آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی۔اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا آگے نہ بڑھے۔انہی قربانیوں کے نتیجہ میں ان کو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ کا سرٹیفکیٹ ملا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اعلائے کلمتہ اللہ کی خاطر ہی ہجرت کر جانیکا ارادہ فرمایا تھا۔ہمارے پیش نظر بھی یہی مقصد ہونا چاہئے۔نائب الرسول آپ میں مہاجر بن کے آیا۔روحانی ترقیات کے لئے اس کی آواز پر مال جان اور وقت قربان کرنا آپ پر لازم ہے۔پس ایک عزم صمیم لے کر آگے بڑھو۔آپ لوگوں کے سپر د ایک بہت بڑا کام ہے جو مسلسل محنت اور پہیم جدو جہد کے بغیر پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا۔پس مہاجرین وانصار کی روح آپ کے رگ وپے میں جاری ہونی چاہئے ”آج میں بھی ان انصار کی زبان بن کر انہیں الفاظ کو دہراتے ہوئے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں کہ جب تک یہ الہی امانت ہمارے پاس رہی اور جہاں تک ہم سے ہو سکا ہم نے خدمت کی اب حکمت الہیہ کے ماتحت یہ امانت آپ کے سپرد ہے نہ صرف سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی اصلح الموعود ایدہ اللہ الودود کی ذات ستودہ صفات بلکہ نسل سیدہ وخواتین مبارکہ اور جملہ اراکین خاندان سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام بھی اس امانت میں شامل ہیں اس کا حق ادا کرنا آپ لوگوں کے ذمہ ہے۔پس دیکھنا اسے اپنی جانوں سے عزیز رکھنا اور کسی قربانی سے دریغ نہ کرنا“۔hhd قدیم صحابہ کرام کا عالی مقام ۲۶۷ ۱ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اصحابی کا لنجوم بايهم اقتديتم اهتديتم کہ میرے صحابہ ( آسمان روحانیت کے ) ستارے ہیں ان میں سے جس کی بھی تم پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے۔حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی اور ایک اور بزرگ کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے دیگر دس ہزار مسلمانوں کے برابر قرار دیا آپ حدیث یوضع له القول في الارض کا اعلیٰ