اصحاب احمد (جلد 9) — Page 333
۳۳۳ پڑھا جس میں مسجد کی غرض و غایت اسلامی نقطہ نگاہ سے بیان کی تھی۔اور بتایا تھا کہ مسجد صرف اور صرف عبادت الہی کے لئے بنائی جاتی ہے۔تاکہ دنیا میں خدا تعالیٰ کی محبت قائم ہوا اور لوگ مذہب کی طرف متوجہ ہوں جس کے بغیر حقیقی امن اور حقیقی ترقی نہیں ہو سکتی۔ہم کسی شخص کو اس میں عبادت الہی سے ہرگز نہیں روکیں گے۔مجھے یقین ہے کہ رواداری کی یہ روح جو اس مسجد کے ذریعہ سے پیدا کی جائے گی دنیا سے فتنہ وفساد دور کرنے اور امن و امان کے قیام میں بہت مدد دے گی۔اس کے بعد حضور نے بنیادی پتھر رکھا۔جس پر یہ مضمون انگریزی میں درج تھا کہ میں مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسیح الثانی امام جماعت احمد یہ خدا کی رضا کے حصول کے لئے اور اس غرض سے کہ خدا تعالیٰ کا ذکر انگلستان میں بلند ہو اور انگلستان کے لوگ بھی اس برکت سے حصہ پائیں جو ہمیں ملی ہے ، آج اس مسجد کی بنیا د رکھتا ہوں۔اور دعا کرتا ہوں کہ وہ جماعت احمدیہ کی اس مخلصانہ کوشش کو قبول فرمائے۔اور اس مسجد کی آبادی کے سامان پیدا کرے اور ہمیشہ کے لئے اس مسجد کو نیکی۔تقویٰ۔انصاف اور محبت کے خیالات پھیلانے کا مرکز بنائے۔اور یہ جگہ حضرت محمد مصطفیٰ خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت احمد مسیح موعود نبی اللہ بروز و نا ئب محمد علیهما الصلوۃ والسلام کی نورانی کرنوں کو اس ملک اور دوسرے ملکوں میں پھیلانے کے لئے روحانی سورج کا کام دے۔اے خدا! تو ایسا ہی کر۔بنیا د رکھی جانے کے بعد جماعت احمد یہ ہندوستان کی طرف سے حضرت مولوی شیر علی صاحب کا ارسال کردہ تار مبارکبادی کا مولوی عبدالرحیم صاحب درد نے سنایا۔پھر حضور نے لمبی دعا کی۔اور اسی مقام پر نماز عصر پڑھی۔بعد ازاں حاضرین نے چائے نوش کی۔جو مختلف اقوام و مذاہب کے افراد اور متعددحکومتوں کے نمائندگان پر مشتمل دوسو کی تعداد میں تھی۔بہت سے اخبارات نے اس اہم تقریب پر نوٹ لکھے۔ساحل انگلستان پر ولیم فاتح کے اترنے کے مقام پر عالم ربودگی میں حضور کی دعائیں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو ایک رویا میں دکھایا گیا کہ وہ سمندر کے کنارے ایک مقام پر اترے ہیں اور انہوں نے لکڑی کے ایک کندے پر پاؤں رکھ کر ایک بہادر اور کامیاب جرنیل کی طرح چاروں