اصحاب احمد (جلد 9) — Page 331
۳۳۱ حالات بتائے۔انہوں نے احمدیوں کی تکالیف کا ازالہ کر دیا۔چونکہ افغانستان کے احمدیوں پر مظالم کی خبریں آرہی تھیں۔اس لئے حضور نے وزارت خارجہ افغانستان اور مشہور تر کی جرنیل جمال پاشا مقیم افغانستان کو توجہ دلوائی۔جس پر محمود طرزی صاحب نے وزارت خارجہ کی طرف سے جواب دیا کہ جلالت ماب جمال پاشا اور مجھے خطوط ملے۔جواباً لکھا جاتا ہے کہ اعلیٰ حضرت غازی امان اللہ خاں کے عہد حکومت میں کابل کی سرزمین میں آپ کے کسی متبع کو حکومت کی طرف سے تکلیف نہیں پہنچائی گئی۔اگر افغانستان کے احمدیوں کی فہرست بھجوا دی جائے تو ممکن ہے کہ اگر انہیں کوئی تکلیف ہوئی ہو تو اس کا ازالہ کر دیا جائے۔مئی ۱۹۲۳ء میں بھی ایک مراسلہ کا جواب ملا کہ احمدی امن سے اس حکومت کے ماتحت رہ سکتے ہیں۔ان کو کوئی تکلیف نہیں دے سکتا۔باقی وفادار رعایا کی طرح ان کی حفاظت کی جائے گی۔مولوی نعمت اللہ خاں صاحب کو اگست ۱۹۲۴ء میں گرفتار کر لیا گیا۔پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ میں احمدی ہوں تو حکام نے پہلے تو انہیں رہا کر دیا لیکن پھر جلد ہی جیل میں ڈال دیا۔ان کے ایک خط سے معلوم ہوا کہ کیسے فدائیت کے ان کے جذبات تھے۔وہ لکھتے ہیں کہ میں ہر وقت قید خانہ میں خدا تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ الہی اس نالائق بندہ کو دین کی خدمت میں کامیاب کر۔میں یہ نہیں چاہتا کہ مجھے قید خانہ سے رہائی بخشے اور قتل ہونے سے نجات دے۔بلکہ میں یہ بھی عرض کرتا ہوں کہ الہی ! اس بندہ نالائق کے وجود کا ذرہ ذرہ اسلام پر قربان کر۔“ محکمہ شرعیہ ابتدائیہ نے آپ کے ارتداد اور واجب القتل ہونے کا فتوی دیا۔پھر عدالت مرافعہ نے ارتداد کے فیصلہ کی توثیق کر کے آپ کے قتل کی بجائے ایک بڑے ہجوم کے سامنے سنگسار کرنے کا حکم دیا۔سو آپ کو پولیس نے کابل کی تمام گلیوں میں پھرایا اور اعلان کیا کہ ارتداد کی سزا میں اس شخص کو آج سنگسار کیا جائے گا۔لوگ اس موقعہ پر حاضر ہوں۔آپ اس وقت مسکرا رہے تھے۔سنگساری سے پہلے اجازت لے کر آپ نے نماز پڑھی۔پھر آپ کو کمر تک زمین میں گاڑ دیا گیا اور پتھروں کی بارش برسا کر آپ کو شہید کر دیا گیا۔اخبار ڈیلی میل کے کابلی نامہ نگار نے لکھا کہ ایک بہت بڑا مجمع نظارہ دیکھنے کے لئے جمع ہو گیا تھا۔مگر اپنے نہایت ہی خوفناک متوقع انجام کے باوجود یہ شخص نہایت مضبوطی اور پختگی کے ساتھ اپنے عقائد کا اظہار کرتا رہا اور اپنے آخری سانس تک اپنے عقائد کا اظہار کرتا رہا۔حضور کولندن میں اس المناک سانحہ کی اطلاع ملی اور اس سے شدید صدمہ پہنچا۔آپ نے اس ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے میں دن رات ایک کر دیا۔لیگ آف نیشنز اور مختلف ممالک کو تار بھجوائے