اصحاب احمد (جلد 9) — Page 325
۳۲۵ ہے۔حضور نے اپنے ایک مکتوب میں اس موقعہ پر بھائی جی کو خاص طور پر خدمت کا موقع ملنے کا ذکر فر مایا ۱۷۴ مکہ معظمہ کے بالمواجہ نوافل پڑھنا بیت المقدس میں قبور انبیاء پر دعائیں حیفا۔دمشق اور روما جانا ۱۷۵ جب نصف شب کو جہاز نے جدہ اور مکہ شریف کے سامنے سے گذرنا تھا تو حضور نے دو رکعت نماز باجماعت پڑھائی اور اس میں نہایت رفت سے دعائیں کیں۔قبور حضرت ابراہیم۔حضرت اسحق۔حضرت یعقوب اور حضرت یوسف اور مقامات ولادت حضرت عیسی (علیهم السلام) وغیرہ اور وہ مقام جہاں حضرت عمرؓ نے نماز پڑھی تھی جسے بعد میں مسجد بنادیا گیا تھا۔حضور نے مسلم رؤسائے فلسطین سے ملاقات کی اور انہیں مطمئن پایا کہ وہ یہود کو وہاں سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔لیکن حضور کے نزدیک ان کا اطمینان بالاخر ان کی تباہی کا موجب ہونے والا تھا اور یہود نے اس ملک میں آباد ہونے میں کامیاب ہو جانا تھا۔(جیسا کہ بعد میں ہو گیا۔) حضور نے مسلمانوں کی ایک جائز شکایت کے بارے میں برطانوی گورنر کو توجہ دلائی جس نے اس شکایت کو صحیح فلسطین سے قافلہ براستہ حیفا دمشق پہنچا۔جہاں حضور کا مع دور فقاء کے قیام ایک ایسے ہوٹل میں ہوا جس کے بارے دوسرے روز معلوم کہ المنارۃ البیضاء کے شرق میں ہے۔سو حدیث شریف کی پیشگوئی پوری ہوئی۔پھر حضور دمشق سے حیفا پہنچے۔پھر بہائیوں کا مرکز عکہ اور ایک مقام پر بہاء اللہ کی قبر دیکھی۔پھر حیفا سے پورٹ سعید جا کر برنڈ زی کے لئے روانہ ہوئے۔وہاں سے بذریعہ ٹرین پوپ کے مرکز روما پہنچے۔جہاں چار روزہ قیام میں پریس میں حضور کے تبلیغی انٹرویو شائع ہوتے رہے۔حضور نے اٹلی کے وزیر اعظم مسولینی سے بھی ملاقات کی اور جماعت احمدیہ سے انہیں متعارف کرایا۔حضور پوپ سے ملاقات کر کے تبلیغ کرنا چاہتے تھے۔لیکن آپ کے ورود پر پوپ نے ملاقاتیں بند کر دیں۔لیکن پوپ کو پیغام حق پہنچانے کا یہ سامان ہو گیا کہ وہاں کے سب سے مشہور کثیر الاشاعت اخبار نے انٹرویو لے کر شائع کیا۔اس میں اسی سوال کا جواب بھی تھا کہ اگر آپ پوپ سے ملاقاتیں کرتے تو کیا