اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 304 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 304

۳۰۴ -٣ سری نگر محلہ خانیار میں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے مزار پر زیارت کیلئے حضور گئے اور بہت دیر تک وہاں دعا کی۔اور محافظ کو مرمت کی خاطر پانچ روپے دیئے اور اس خیال کا اظہار فرمایا کہ بہت اچھا ہو کہ ہماری جماعت کے احباب زیارت کریں تو کچھ نہ کچھ رقم مرمت اور حفاظت کے لئے دیتے رہیں۔۴- اسلام آباد سے ا ر ا گست کو قریباً ساڑھے آٹھ بجے صبح ٹانگوں اور گھوڑوں پر حضور مع قافلہ آسنور کو روانہ ہوئے۔موضع کنج پورہ (کنی پورہ) کے احباب کے اہتمام کی وجہ سے حضور کھانے اور تقریر کے لئے رکے۔تقریر میں غیر از جماعت لوگوں کی خاصی تعداد تھی۔حضور نے ایک گھنٹہ سے زیادہ کی تقریر میں انسانی پیدائش کی غرض بتائی اور مسلمانوں کے ادبار کے وجوہات اور جماعت احمدیہ کو بار بار قادیان آنے اور اپنے اندر نمایاں تبدیلی پیدا کرنے کی تلقین فرمائی۔آسنور کے احباب آٹھ میل آگے ڈانڈیاں لے کر آئے۔آسنور سے چھ میل کے فاصلہ پر موضع کا پرن کے ذیلدار مکرم عبدالقادر صاحب بٹ نے جو جماعت میں شامل نہیں قافلہ کیلئے پر تکلف چائے کا انتظام کیا تھا حضور نے قبول کی اور ان کی درخواست پر ان کے لئے دعا کی۔آٹھ بجے شام وہاں سے سوار ہوئے۔جماعت آسنور نے نہایت جوش۔اخلاص اور محبت سے حضور کا استقبال کیا۔تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر احمدی گروہ در گروہ جمع تھے۔بہت سے احباب من مشعلیں لے کر جابجا کھڑے تھے۔آسنور سے دو میل ورے موضع رشی نگر میں احمدی بچوں اور نو جوانوں کی دورویہ قطار کھڑی تھی اور انہوں نے ہدیہ سلام مسنون پیش کیا۔ظاہری خوشنمائی کے لحاظ سے علاقہ آسنور کشمیر کے بہترین علاقوں میں سے ہے اور اس کو خدا تعالیٰ نے باطنی حسن سے بھی متمتع فرما کر اپنی شناخت اور اپنے نبی کی آواز پر لبیک کہنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔حضور نے آسنور سے دوتین میل کے فاصلہ سے ہی دعائیں مانگنی شروع کر دی تھیں۔مگر داخل ہوتے وقت مل کر سب کے ساتھ اس خشوع اور خضوع سے دیر تک دعا مانگی کہ سب پر رقت کی کیفیت طاری ہوگئی اور آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔قریباً گیارہ بجے (شب) کے بعد حضور تمام قافلہ کے ساتھ مع الخیر مکان میں اترے۔۵- باوجود دو روز طبیعت ناساز رہنے کے یوم الحج کو سال گذشتہ کی طرح حضور دعا مانگنے کے لئے ایک قریب کی پہاڑی پر ایک خلوت کی جگہ تشریف لے گئے۔نماز ظہر سے فارغ ہو کر تین بجے حضور نے چار نوافل باجماعت ادا کئے۔بالجبر ان میں قرات کی۔ان نوافل میں دو گھنٹے سے زائد وقت صرف ہوا۔دو