اصحاب احمد (جلد 9) — Page 251
۲۵۱ کچھ فرماتے اس کے مطابق عمل کر کے دکھا دیا کرتے تھے۔اللهم صلى عليه وعلى مطاعه دائماً - آمين - فنانشل کمشنر کی قادیان میں آمد پر استقبال حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے ایک مضمون میں روانیوں کے جمع کرنے میں خاص احتیاط کی ضرورت کے بارے توجہ دلاتے ہوئے بتایا ہے کہ ایک دوست کی روایت میں فنانشل کمشنر کو کمشنر بتایا گیا اور یہ بھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود فنانشل کمشنر کے استقبال میں شریک ہوئے تھے۔حالانکہ یہ درست نہیں۔قادیان سے باہر استقبال کرنے کے لئے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اور خواجہ کمال الدین صاحب وغیرہ کو بھجوادیا تھا اور جو استقبال قادیان کے اندر یعنی ریتی چھلہ کے میدان میں ہوا تھا اس میں بھی حضرت اقدس علیہ السلام خود شریک نہیں ہوئے تھے۔اس روایت کی تصحیح بعد میں مکرمی بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے الفضل ۳ را پریل ۱۹۴۱ء میں کر دی تھی۔حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب کی طرف سے تیج -1 ایک دوست کی روایت الفضل میں شائع ہوئی اس کی تصحیح میں حضرت بھائی جی تحریر کرتے ہیں کہ فنانشل کمشنر نہ کہ کمشنر کی آمد پر حضور پرنور خود استقبال کے لئے تشریف نہیں لے گئے تھے۔بلکہ اپنے خاندانی طریق کے مطابق اپنے بڑے صاحبزادے سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سلمہ ربہ کو ان کے استقبال کے لئے قادیان کی حد پر بھیجا تھا۔جو مع اور چند معززین کے گھوڑوں پر سوار ہو کر تشریف لے گئے تھے۔دارالفتوح۔ریتی چھلہ کے بڑوالے میدان میں پہلے طلباء کی قطاریں تھیں۔جن کے ساتھ ان کے اساتذہ اور ہیڈ ماسٹر صاحب تھے۔دروازہ کے پاس جماعت احمدیہ کے مقامی اور بیر ونجات کے شرفاء و معززین کھڑے تھے۔مگر اس موقعہ پر بھی سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام موجود نہ تھے۔گیارہ بجے کے قریب صاحب بہادر اپنے کیمپ پر پہنچے اور صاحب بہادر کی خواہش پر عصر کے بعد حضور نے اپنے معزز مہمان کو شرف ملاقات بخشا تھا۔حضور جب تشریف لے گئے تو صاحب بہادر نے خیمہ کے دروازہ پر حضور کا استقبال کیا اور حضور کی واپسی پر بھی خیمہ سے باہر تک حضور کو رخصت کرنے آئے۔ان واقعات کا