اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 250 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 250

۲۵۰ آ گئی۔جلدی سے ٹکٹ لئے اور خدا کے نام پر سوار ہو کر شکر بجالاتے ہوئے گورداسپور کوروانہ ہو گئے۔جہاں خدا کا اولوا العزم نبی ورسول علیہ الصلوۃ والسلام ہماری انتظار میں تھا۔الحمد للہ الحمد للہ ثم الحمد للہ کہ یہ مہم محض خدا کے فضل سے سر ہوئی۔سیدنا حضرت اقدس کے حضور سرخروئی نصیب ہوئی۔حضور خوش ہوئے اور تبسم فرماتے ہوئے جزاک اللہ، جزاک اللہ فرماتے اور دعائیں دیتے رہے۔اس کے علاوہ اسی مقدمہ کے دوران میں ایک رات بعد نماز عشاء گیارہ بجے رات کو حکم ہوا تھا کہ شیخ فضل الہی صاحب نمبر دار فیض اللہ چک کی ضرورت ہے۔برسات کے ایام اور اندھیری راتیں۔ڈھاب، تالاب پانی سے اٹے پڑے تھے۔راستے غائب، سڑکیں گم تھیں۔مگر خدا تعالیٰ نے اس موقع پر بھی خارق عادت رنگ میں مددفرمائی اور شیخ صاحب کو لے کر وقت پر پہنچ گئے تھے۔تعمیل ارشاد میں انہوں نے بھی جس محبت وایثار کا نمونہ دکھایا۔قابل رشک صد آفرین اور لائق صد داد ہے۔خدا غریق رحمت کرے۔آمین ایک مرتبہ سردار فضل حق صاحب کی ضرورت پیش آئی تھی۔اسی مقدمہ کی ذیل میں قادیان سے دھرم کوٹ گیا۔وہ نہ ملے۔بٹالہ واپس آیا نہ ملے۔امرتسر گیا۔وہاں بھی نہ ملے۔آخر تر متارن جا کر کچہری کی ایک کوٹھڑی میں سے ہاتھ آئے۔اسی طرح کے بعض اور بھی سفر ہیں۔جوانشاء اللہ بھی پھر سہی۔میں جہاں یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے کام میں کس طرح غیر معمولی رنگ اور خارق عادت طریق پر سرانجام پہنچانے کے سامان پیدا کر دیا کرتا ہے۔سورج ان کے لئے تھم جاتا تھا۔اور زمین لپٹ جایا کرتی تھی۔وہاں یہ بھی بتانا مقصود ہے کہ حضور پُر نورکو غلام بھی خدا نے کیسے اطاعت گذار اور فدائی عطا فرمائے ہوئے تھے۔جو راتوں کو بھی دن سمجھتے اور ہرلحہ تیار بر تیار رہا کرتے تھے ذلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ایسے موقعوں پر جبکہ اللہ تعالیٰ کی غیر معمولی تائید اور خارق عادت نصرت کے سامان ہو جایا کرتے تو حضور ا کثر بطور شکر گزاری یہ فرمایا کرتے تھے۔” خدا کا کتنا فضل ہے کہ ہمیں ہر قسم کے آدمی عطا فر مار کھے ہیں۔“ اور حضور سب سے بڑھ کر عبد شکور تھے۔میں ہمیشہ اس واقعہ کو یاد کر کے خود بھی حیران ہوا کرتا ہوں اور جاننے سننے والے بھی تعجب ہی کیا کرتے کہ یہ ناممکن کام کیونکر ممکن ہو جایا کرتے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے: رعایت اسباب لازمی ہے مگر ان پر انحصار رکھنا شرک اور ان کو ترک کر دینا نا شکری۔“ اور آپ جو