اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 246 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 246

۲۴۶ اصل عبرانی اور لفظی ترجمہ لکھ دو۔اس کے بعد اتفاق ایسا ہوا کہ مجھے جلد قادیان آنے کا موقعہ ملا۔تب مجھے سب حال معلوم ہوا۔اور یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ میری تحریر جب یہاں پہنچی کہ اس سے ثابت ہوا کہ و ہی ترجمہ اور تفسیر درست تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کرتے تھے۔اور اس بارے میں محمد دین کا شبہ دور ہوا اور (اس کی ) تشفی ہوگئی۔اس وقت پھیلاں سے ملنے اور بات کرنے کا مجھے بھی اتفاق ہوا۔اور اس کے منہ سے ایک کلمہ نکلا جس کو میں کبھی بھول نہیں سکتا۔ایک دن وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اندرون خانہ سے آ رہی تھی کہ مجھے کو چہ بندی میں ملی۔اس کے چہرہ پر بشاشت اور تبسم تھا اور (وہ) مجھے بے اختیار کہنے لگی : پہلے نبیوں کے جو حالات ہم سنتے ہیں مجھے تو خیال آتا ہے کہ مرزا صاحب انہی میں سے ایک نبی ہیں۔ان کا خلق، ان کی باتیں، ان کا کام سب نبیوں کی طرح ہے۔میں نے کہا بالکل ٹھیک ہے۔وہ عورت پڑھی لکھی نہ تھی۔اس نے براہین (احمدیہ ) اور دیگر کتا بیں اور الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نہ پڑھے تھے۔مگر زیرک اور نیک اور سلیم الفطرت تھی۔حضور کے حالات مشاہدہ کر کے بے اختیار اس کی طبیعت پر یہ اثر تھا کہ میں اللہ تعالیٰ کے ایک نبی کو دیکھ رہی ہوں۔۱۵- صحابہ کی جان شاریاں حضرت بھائی جی لکھتے ہیں : (انبیاء سے بڑھ کر کوئی شخص صفات الہیہ سے واقف نہیں ہوتا وہ ” بر تو کل زانوئے اشتر بہ بند پر عمل پیرا ہوتے ہوئے رعایت اسباب کا پورا خیال رکھتے ہیں۔خلاصہ ) یہی طریق ہمارے سید و مولیٰ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا اور اسی منہاج پر حضور ہمیشہ کار بند تھے۔بیماری میں علاج معالجہ اور دوائی درمن کی فراہمی میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھتے۔ڈاکٹر وطبیب اور دید وحکیم سے مشورہ فرماتے۔پوری کوشش اور سعی بلیغ فرماتے۔مقدمات میں وکیل مختار اور منشی متعدی یا دوسرے قانون دانوں سے مشورہ فرماتے اور نہایت ہوشیار جرنیل کی طرح بھروسہ ہر قسم کا کسی سفلی سامان پر تھا نہ دوائی در من پر۔کسی وکیل منشی پر ہوتا نہ کسی حاذق حکیم پر۔آپ جہاں موحد کامل تھے