اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 208 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 208

۲۰۸ و تکلیف ہی مضمون لکھنا شروع فرما دیا۔اور چونکہ حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم مغفور رضی اللہ تعالی عنہ ان ایام میں کسی ضرورت کے ماتحت سیالکوٹ جاکر بیمار ہو گئے۔اور ان کی بیماری کی اطلاعات سے اندیشہ تھا کہ وہ جلسہ پر نہ پہنچ سکیں گے اس پر بھی سوچ بچار اور مشورہ کے بعد فیصلہ ہوا کہ حضور کا مضمون خواجہ کمال الدین صاحب پڑھیں چنانچہ اس فیصلہ کے ماتحت یہ تجویز کی گئی کہ (الف) حضور کا مضمون جسے محترم حضرت منشی جلال الدین صاحب نقل کرتے تھے۔کتابت کے طریق پر لکھا جائے تا کہ خواجہ صاحب کو پڑھنے میں دقت نہ ہو۔اور حضرت پیر جی سراج الحق صاحب نعمانی کے سپرد یہ کام کیا گیا۔مگر حضور پُر نور کے پھر بیمار ہونے کی وجہ سے جب مضمون کی تیاری میں وقفہ پڑ گیا تو دو اصحاب نے مل کر اس کو مکمل کیا۔(ب) اس مضمون میں جس قدر آیات قرآنی احادیث یا عربی آیات آئیں وہ علیحدہ خوشخط لکھوا کر خواجہ صاحب کو اچھی طرح سے رٹا دی جائیں تا کہ جلسہ میں پڑھتے وقت کسی قسم کی غلطی یار کا وٹ مضمون کو -L بے لطف و بے اثر ہی نہ بنا دے۔حضور پر نور کا یہ مضمون خوشخط لکھا ہوا صبح کی سیر میں لفظاً لفظاً سنایا جایا کرتا تھا۔اور حضور کی عام عادت بھی یہی تھی کہ جو بھی کتاب تصنیف فرمایا کرتے یا اشتہار ورسائل لکھا کرتے ان کے مضامین کو مجلس میں بار بار دھرایا کرتے تھے۔اتنا کہ باقاعدہ حاضر رہنے والے خدام کو وہ مضامین عموماً ازبر ہو جایا کرتے تھے۔ان ایام کی سیر عموما صبح قادیان کے شمال کی جانب موضع بڑ کی طرف ہوا کرتی تھی اور اس مضمون کے سننے کی غرض سے قادیان میں موجود اصحاب و مہمان قریباً تمام ہی شوق اور خوشی سے شریک سیسر ہوا کرتے جن کی تعداد تخمیناً ہیں یا پچیس تک ہوا کرتی تھی۔مضمون کے بعض حصوں کی تشریح بھی حضور چلتے چلتے فرماتے جایا کرتے تھے۔یہ تحریر و تقریر نئے نئے نکات عجیب در عجیب معارف اور ایمان افروز حقائق و دلائل کی حامل ہوا کرتی تھی۔ان دنوں کی سیر صبح میں جس کے لئے حضور باوجود بیماری اور ضعف کے نکلا کرتے تھے، بعد میں معلوم ہوا کہ مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی کے بعض جاسوس بھی حضور کے اس مضمون کو سن کر ان کو رپورٹ پہنچایا کرتے تھے۔چنانچہ حضور کے مضمون کی اکثر آیات جن کو حضور نے موقع ومحل پر موتیوں کی لڑی کی طرح سجا کر ان سے استنباط فرماتے ہیں مولوی صاحب نے اپنے مضمون میں یکجا جمع کر دی ہیں جن کا وہاں ربط ہے نہ موقع محل اور جوڑ۔-^ جناب خواجہ کمال الدین صاحب مضمون کو پڑھا کرتے۔پڑھنے کے طریقوں کی مشق کیا کرتے