اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 201 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 201

۲۰۱ اور احسان و کرم حضور کو مجھ سے ہے دنیا میں کسی دوسرے سے نہیں۔یہی وجہ تھی کہ ہر عقیدت کیش آپ کے لئے انتہائی قربانی تک کے لئے ہر وقت تیار و کمر بستہ رہتا۔میں شامت اعمال سے اس مرحلہ پر اس مقدس دالان کے پہرہ کی ڈیوٹی کے دوران میں بیمار ہو گیا۔بخار آنے لگا۔کچھ عرصہ تو میں نے کسی پر ظاہر بھی نہ کیا۔مگر جب حالت نازک ہو گئی اور میں چلنے پھرنے بلکہ اٹھنے بیٹھنے تک سے معذور ہو گیا تو اس مقدس ڈیوٹی سے بھی محروم ہو گیا۔یہی وہ سخت اور شدید بیماری تھی جس کا ذکر میں اپنے ابتدائی حالات کے دوران میں کر چکا ہوں۔اور جن کو موقر اخبار الحکام نے شائع کر دیا تھا۔جو مجھے موت کے منہ تک لے جا چکی تھی۔زندگی کی کوئی رمق باقی نظر نہ آتی تھی۔اور موت میرے سر پر منڈلاتی دکھائی دے رہی تھی۔آخر سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تو جہات اور دعاؤں کے طفیل اللہ تعالیٰ نے مردے کو زندہ کرنے کا معجزہ دکھایا۔دنیا گواہ ہے۔اپنے اور بیگانے سبھی جانتے ہیں کہ : حضور پر نور کو مہمانوں سے کس قدر محبت تھی اور حضور کتنا چاہتے تھے کہ آئے ہوئے مہمان جلد واپس نہ جائیں۔بلکہ جس قدر زیادہ ممکن ہوٹھہر میں اور صحبت میں رہیں۔-1 -۲ حضور کو کتنی خواہش اور تڑپ تھی کہ لوگ آئیں، حضور کی صحبت سے فیض پائیں۔خدا کی باتیں سنیں اور تازہ نشان دیکھیں اور اس غرض کے لئے حضور نے ایک دعوت عام دے رکھی تھی۔اخراجات سفر۔اوقات کے حر جانے۔اخراجات طعام و قیام کے برداشت کرنے کا اعلان بھی کر رکھا تھا۔اور یہاں تک فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی صحت نیت اخلاص اور صاف دلی سے ہماری صحبت میں چالیس دن ٹھہرے تو ضرور وہ خدا کا زندہ نشان اور ہماری صداقت کی تازہ شہادت پائے گا۔اگر نہ پائے تو وہ خدا کے حضور بری الذمہ۔حضور کے مکانات صحن اور کمرے کوٹھڑیاں کس قدرصحابہ وخدام اور ان کے بیوی بچوں سے بھری رہتی تھیں اور کوئی کو نہ بھی خالی دکھائی نہ دیا کرتا تھا۔گھر کے اندر گنجائش نہ رہتی تو کرایہ کے مکان مہیا فرماتے۔اور ان کی ضروریات پورے تعہد والتزام کے ساتھ وہیں پہنچانے کا انتظام فرماتے۔القصہ یہی وہ غرض تھی اور یہی مقصود جس کے لئے حضور پُر نور نے نور دین سے محبت کی۔اس کو گھر میں رکھا اور اپنے قریب کیا۔جس سے اس کے نور میں جلا پیدا ہوئی۔وہ عرفان میں بڑھا اور آخر کار اس منبع نور میں غوطہ لگا کر فنافی النور اور نورعلی نور