اصحاب احمد (جلد 9) — Page 200
۲۰۰ میرے لباس اور بستر کا بنا میری مرضی و پسند پر رکھا گیا۔اس سے قبل ماں باپ اپنی مرضی و پسند کا بنواتے اور پہناتے تھے اس لئے مجھے اپنی مرضی و پسند کا کوئی علم ہی نہ تھا۔حضرت حکیم صاحب کو حکم تھا۔اور اسی کی وہ تعمیل کرنا چاہتے تھے۔کئی کپڑے میرے سامنے لائے گئے۔اور ہر بار مجھ سے پوچھا گیا، مگر میں نے ایک چپ سادھ رکھی تھی۔بار بار کے تقاضوں سے کچھ یاد آ کر میرا دل بھر آیا اور میں زار وقطار رونے لگا۔یہ حال دیکھ حضرت حکیم صاحب موصوف نے مجبور ہو کر خود ہی بہترین کپڑے بہترین بستر کا انتظام کر کے فوری تیاری کی تاکید کر دی اور میری دلجوئی کرتے ہوئے واپس ساتھ لے آئے۔شام سے پہلے نہایت اچھا بستر تیار ہو کر آ گیا۔جو رات کو حضرت نے بھی دیکھا اور بہت خوش ہوئے۔کپڑے بھی دوسرے تیسرے دن مل گئے۔سیدنا حضرت اقدس اکثر نصف رات کے بعد ڈیڑھ۔دو یا اڑھائی بجے کے قریب نماز تہجد کے لئے آیا کرتے اور اگر چہ حضور نہایت احتیاط کے ساتھ دبے پاؤں تشریف لاتے ، نہایت آہستگی سے کھڑ کی کھولتے ، مگر میں عموماً حضور کی تشریف آوری پر چوکس ہو جایا کرتا۔چند مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ میں جاگنے کے بعد پھر سو گیا اور اذان کی آواز بھی مجھے بیدار نہ کر سکی تو حضرت نے صبح کی نماز کے واسطے آتے ہوئے مجھے بھی جگا دیا۔اس زمانہ کی یاد سے میرے دل پر ایک نہایت گہرا اور پائیدار اثر یہ بھی ہے کہ حضور پر نور نہایت محنت کش واقع ہوئے تھے۔علاوہ تحریر و تصنیف کے سخت دماغی کام کے عموماً حضور اپنے سارے ہی کام خود اپنے ہاتھوں کیا کرتے تھے۔نہ صرف یہی بلکہ دوسروں کے کام بھی کر دیا کرتے تھے۔حضور بڑے شب بیدار تھے۔عشاء کے بعد بہت دیر تک میں جاگتا مجھے انتظار ہوتی کہ حضور تشریف لائیں گے۔کیونکہ حضرت کا معمول تھا کہ دو ایک مرتبہ ضرور پہلے حصہ رات میں بھی اوپر تشریف لایا کرتے تھے۔میں نیند سے مغلوب ہوکر سو جاتا اور حضور موم بتیاں جلا کر لکھنے میں مصروف رہتے۔پھر میں ابھی غلبہ نیند سے خراٹے بھرا کرتا تھا کہ حضور بیدار ہوتے تھے خدا ہی جانے کہ حضور سوتے کسی وقت تھے۔میں نے حضور کو اتنا قریب رہ کر بھی جب دیکھا جاگتے ہی دیکھا۔خدا کے پیارے مسیح اور مقرب رسول سید نا حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے حسن واحسان کے واقعات، پیاری ادا ئیں اور دلر با روحانی باتیں بے شمار ، بے انداز اور ان گنت ہیں جو رہتی دنیا تک بیان ہوتی لکھی اور پڑھی سنی جاتی رہیں گی۔ہر دوست ، ہر مرید اور ہر خادم وغلام کے ساتھ حضور کے ایسے گہرے روحانی تعلقات تھے کہ ہم میں ہر ایک یہی سمجھتا کہ جتنا تعلق محبت ومروت