اصحاب احمد (جلد 9) — Page 174
۱۷۴ عاقبت کی فکر بھی تو کرنی چاہئے۔“ اجازت بھی حضور دیتے تو فرمایا کرتے اور تاکید فرماتے کہ : خط لکھتے رہیں یاد کراتے رہیں کیونکہ خط بھی نصف الملاقات ہوتا ہے۔“ الغرض حضور کی دلی خواہش اور کچی آرزو ہوتی کہ لوگ کثرت سے قادیان آیا کریں حضور کی صحبت سے نور فیض پائیں نور ایمان اور معرفت و یقین حاصل کریں۔خدا پر زندہ ایمان اور گناہ سوز ایمان کے حصول کا واحد ذریعہ بار بار آنا اور صحبت میں رہنا بتایا کرتے۔جہاں خدا کے نشانوں کی بارش اور تازہ بتازہ کلام الہی کا نزول ہوا کرتا۔خدا کا نبی علیہ الصلوۃ والسلام اکثر خدا کی وحی سنا تا۔خدا کا کلام پڑھتا اور اس کی باتیں سنایا کرتا۔جو بعض اوقات اسی دن بعض اوقات دو چار روز میں اور بعض اوقات کچھ عرصہ بعد پوری ہو کر مومنین کے ایمان کی زیادتی و تازگی اور یقین و عرفان کی پختگی کا موجب ہوتیں۔خدا کی قدرت نمائی کے کرشمے اور علم کامل کے نشانات دیکھنے میں آتے۔غیب پر مشتمل خبروں اور خدا کی بتائی ہوئی پیشگوئیوں کا پورا ہونا ایک زندہ ایمان اور پختہ یقین کا موجب ہوا کرتا ایسا کہ گویا خدا نے چہرہ نمائی فرما دی۔اس کے علاوہ بے انداز فیوض ، بے حساب برکات حضور کی صحبت میں میسر آیا کرتے۔مگر اس وقت میں صرف اسی خاص ایک امر کا ذکر کروں گا۔۲۹ جولائی ۱۸۹۷ء کا واقعہ ہے کہ حضور نے خواب منذر دیکھا جو حضور کے اپنے الفاظ میں درج کرتا ہوں : ۲۹ جولائی ۱۸۹۷ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک صاعقہ مغرب کی طرف سے میرے مکان کی طرف چلی آتی ہے اور نہ اس کے ساتھ کوئی آواز ہے اور نہ اس نے کوئی نقصان کیا ہے۔بلکہ وہ ایک ستارہ روشن کی طرح آہستہ حرکت سے میرے مکان کی طرف متوجہ ہوئی ہے اور میں اس کو دور سے دیکھ رہا ہوں۔اور جبکہ وہ قریب پہنچی تو میرے دل میں تو یہی ہے کہ یہ صاعقہ ہے مگر میری آنکھوں نے صرف ایک چھوٹا سا ستارہ دیکھا جس کو میرا دل صاعقہ سمجھتا ہے پھر بعد اس کے میرا دل اس کشف سے الہام کی طرف منتقل کیا گیا اور مجھے الہام ہوا مَا هَذَا إِلَّا تَهْدِيدُ الْحُكَّامِ یعنی یہ جو دیکھا اس کا بجز اس کے کچھ اثر نہیں کہ حکام کی طرف سے کچھ ڈرانے کی کارروائی ہوگی۔اس سے ،، ۱۳۹ زیادہ کچھ نہیں ہو گا پھر بعد اس کے الہام ہوا قَدْ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ