اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 172 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 172

۱۷۲ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے انفاس قدسیہ اور انوار سماویہ کا فیضان عام اپنے اصحاب کو مندرجہ ذیل اوقات میں پہنچاتے تھے ا سیر صبح -۲- در بارشام ۳- مجلس طعام ۴- بعد از نماز مجلس عرفان۔۔۔۔ایک روز حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام قادیان کے شمالی جانب موضع بوٹر کی طرف مع خدام سیر کے لئے تشریف لے گئے آپ کا یہ حقیر خادم بھی ساتھ تھا۔مختلف احباب اپنے اپنے سوالات پیش کر رہے تھے اور حضور اقدس علیہ السلام کے منہ سے جواباً معارف کے دریا بہہ رہے تھے۔اگر چہ میں کمسن تھا۔لیکن دوسروں کے سوالوں سے مجھے بھی جرات ہوگئی اور میں نے عرض کیا: حضور ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تو ہم دورد پڑھتے ہیں۔مگر حضور کے لئے کس طرح دعا کی جائے؟ حضور اقدس علیہ السلام نے نہایت محبت اور تلطف سے بے ساختہ فرمایا: 66 یہی درود جو نماز میں پڑھا جاتا ہے۔ہمیں پہنچتا ہے۔“ جواب باصواب سن کر دل کو تسلی اور روح کو اطمینان ہوا۔۔۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا عہد سعادت بیت گیا۔سیدنا ومولانا حضرت نورالدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔۔۔۔حسب دستور مسجد اقصیٰ میں قرآن کریم کا درس فرما رہے تھے۔غالبا سورہ جمعہ یا کسی ایسی ہی آیت مسیح موعود کی مماثلت اور مقام فنائیت فی الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان فرمارہے تھے۔میرے ذہن میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مذکورہ بالا ارشاد مستحضر تھا۔مجھ سے رہا نہ گیا اور بے اختیار کھڑا ہو گیا۔حضرت سید نا خلیفہ اول نے میری طرف توجہ فرمائی اور میں نے مذکورہ بالا واقعہ عرض کرتے ہوئے حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ یہی درود جونماز میں پڑھا جاتا ہے ہمیں پہنچتا ہے۔“ دہرا دیئے۔سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح اوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سنتے ہی فرمایا: نیک بختا! ایہہ گل کدھرے چھپوائی وی آ کہ نہیں ؟“ د یعنی بچے ! یہ ارشاد کسی اخبار میں شائع بھی کرایا ہے یا نہیں ؟ مجھے ٹھیک یاد نہیں۔خیال پڑتا ہے کہ اس حکم کی تعمیل میں لکھ دیا ہوگا۔ہمارے آقا سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقام بے شک وہی تھا جس کا اظہار آپ نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ من فرق بينى وبين المصطفى فماعرفني ومارای۔“