اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 123 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 123

۱۲۳ اشاروں پر اکتفا کرتے ہوئے کچھ عرض کرتا ہوں۔سب سے پہلی مشکل اس بستی کی گمنامی کی وجہ سے اس کی تلاش کی تھی تو دوسرا بڑا بھاری مرحلہ قادیان پہنچنے کا تھا۔ذرائع آمد و رفت کا اتنا فقدان تھا کہ سواری کا میسر آنا ہی مشکل ہو جایا کرتا۔سواری آجا کے اس زمانہ میں ریڑھو، بیل گاڑی، گڈا اور زیادہ سے زیادہ دقیا نوسی یکہ ہوا کرتا تھا جس کی وضع قطع اور شکل و بناوٹ اس امر کی مقتضیہوا کرتی تھی کہ اسے یکہ کی بجائے شیطانی چرخہ کے نام سے پکارا جائے اور حقیقت بھی اس سواری کی اسی نام سے پوری طرح واضح ہوتی ہے۔چلنے میں دھکوں کا لگنا حتی کے پسلیاں دکھ جایا کرتیں، پیٹ میں در داٹھنے لگتا اور جسم ایسا ہو جاتا کہ کسی نے اوکھلی میں دے کر کوٹ دیا ہو۔اس کا چلتے چلتے سیخ پا ہو جانا، الٹ جانا ، سواریاں نیچے چرخہ اوپر۔یہ باتیں خالی یکہ دیکھنے سے کیسے معلوم پڑسکتی ہیں۔یکہ مل جانے کے بعد دوسری مشکل یہ ہوا کرتی کہ یکہ بان غائب۔وہ نہاری لینے چلا جایا کرتا اور جب تک کوئی سواریاں ہاتھ نہ آجاتیں اس کی نہاری تیار نہ ہو سکتی۔اور اس طرح بہت سا قیمتی وقت یکہ بان کے انتظار یا تلاش میں ضائع ہو جایا کرتا۔سڑک کی کیفیت لکھنے کی تو ضرورت نہیں کیونکہ اس کی تفصیل خود خداوند عالم الغیب نے فج عمیقی کے کلام میں فرما دی ہے۔سڑک کچھی تھی مرمت کا کبھی کوئی سامان نہ ہوا کرتا تھا۔غلہ وغیرہ اجناس تمام گڑوں کے ذریعہ بٹالہ جایا کرتی تھیں۔جس کی وجہ سے سڑک نہایت خستہ، نا ہموار اور خراب تھی۔یکہ کی ہیئت ترکیبی کچھ ایسی تھی کہ اچھے سے اچھا موٹا تازہ اور نو بہ نوگھوڑا یکہ میں لگنے کے چند ہی روز میں دُبلا پتلا اور ایسا مریل ہو جایا کرتا کہ دیکھنے والوں کے دل رحم سے بھر جاتے راستہ کا اکثر حصہ سواریاں پیدل چل کر پہنچتیں۔اور برسات کے موسم میں تو خدا کی پناہ۔بعض اوقات پورا پورا دن چلنے سے بھی قادیان نہ پہنچ سکتے۔یکے پھنس جایا کرتے تو ایسی مصیبت ہوا کرتی جو برداشت سے باہر ہو جاتی۔سامان مزدوروں کے سروں پر اٹھوا کر منگایا جا تا۔سواریاں پیدل آتیں۔یکہ بان مجبور ہو کر گھوڑا کھول کر لے آتا۔یکہ سڑک میں کھڑا رہتا۔اس کیفیت کی اگر تفصیل بیان کروں تو پوری ایک کتاب بن جائے۔برسات میں قادیان کی حالت قادیان کی بستی نشیب میں واقع ہے برسات کی وجہ سے چاروں اطراف سے پانی کا سیلاب آیا کرتا جس سے گاؤں کے گرد کی ڈھا میں کھائیاں اور خندقیں بھر جایا کرتیں۔اور زائد پانی ڈیڑھ میل تک قریباً