اصحاب احمد (جلد 9) — Page 109
۱۰۹ (۸) یہ مکتوب حضور کے وصال کے تعلق میں درج ہے۔۔وہ کرسی جس پر حضرت اقدس نے تشریف فرما ہو کر خطبہ الہامیہ دیا تھ حضرت بھائی جی نے بتایا تھا کہ یہ کرسی بازوؤں والی تھی۔سیٹ اور پچھلا حصہ بید سے بنا ہوا تھا۔اس پر گزشتہ سال ( یعنی غالبا وفات سے ایک سال پہلے ) یہ الفاظ لکھوائے تھے۔یہ وہ مقدس کرسی ہے جس پر بیٹھے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہالسلام پر خطبہ الہامیہ کا نزول ہوا تھا“۔کتبہ، قاضی عبد الحمید درویش لیکن بعد میں بھائی جی سے مکرم مولوی برکات احمد صاحب را جیکی بی۔اے درویش ( ناظر امور عامه و خارجیہ ) نے یہ ذکر کیا تھا کہ ایسی متعدد کرسیاں دارا مسیح میں ہیں۔ایک کی تعین نہیں کی جاسکتی۔تب بھائی جی نے تسلیم کر لیا تھا کہ میری یہ یقین سہو ہے۔بقیہ حاشیہ: - کثیراً پڑھا گیا۔حالانکہ انہیں اور خطوط میں مرزا کو ”مرزا‘ ہی پڑھا گیا۔اصل خطوط کے ساتھ الحکم اور کتاب ہذا کی عبارات کا حضرت بھائی جی کے سامنے مقابلہ کیا تھا۔حضرت بھائی جی نے کتاب ہذا کی عبارات کو درست قرار دیا ہے۔البتہ مکتوب ۴۶/۳ میں القدیر‘ اور العزیز دونوں پڑھا جا سکتا ہے۔حضرت بھائی جی کا رجحان "العزیز کی طرف ہے اور القدیر کی طرف ہے۔اس لئے کہ حضور کا خط القدیر کے مشابہ معلوم ہوتا ہے۔ان خطوط کے بلاک کتاب میں درج ہیں اور چر بے الحکم میں۔ان سے احباب خود ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔(باء) خاکسار مؤلف کتاب ہذا طبع دوم کے وقت (الف) والانوٹ شامل کرنے کے علاوہ ذیل کے امور بھی شامل کرتا ہے۔-1 الحکم ۱۴۰۷ جون ۱۹۳۸ء کی جلد ۴۱ اور نمبر ۱۸، ۱۹ ہے۔۲- تقسیم ملک تک حساب کتاب میں اور دستاویزات میں اعداد فارسی کے عام مستعمل و رائج تھے۔جیسے عص، یعنی ایک اور للہ“ ضمیمہ مذکورہ (صفحہ ۶۰) میں مکتوب نمبر ۴۹۔۶ کے بارے خاکسار نے (حضرت بھائی جی سے پوچھ کر یہ نوٹ دیا تھا: