اصحاب احمد (جلد 9) — Page 98
۹۸ وو وقف کریں اپنے آپ کو ( پیش کر کے ) میں نے بھی لبیک کہی اور ہمیشہ اسی خیال سے پڑا رہا۔پھر خلافت ثانیہ کے قیام کے ابتدائی ایام میں امیر المومنین حضرت اقدس خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جب تحریک وقف کا اعلان فرمایا۔تو اس وقت بھی میں نے دل سے لبیک کہی۔گول کمرہ میں حضور پرنور نے واقفین کو بازیابی کا شرف بخش کر ہدایات دیں۔اور واقفین کو قبول فرمایا۔میں بھی پھر اس زمانہ سے لبیک لبیک کہتے ہوئے وقف ہوا۔اور پہلے عزم ارادہ اور نیت کو اور زیادہ پختہ کر کے جب سے اب تک اسی عہد پر قائم ہوا ہوں۔“ ☆366 تعمیر مکان بھائی جی نے بتایا کہ میں نے حضرت خلیفہ مسیح الاول کے مکان کے قریب اپنامکان تعمیر کرایا۔لیکن فائل وصیت کی چٹھی مورخه ۸ ظهور ۱۳۱۹اهش ( مطابق ۱۸ اگست ۱۹۴۰ء میں تسلسل عبارت کے لئے پیش کر کئے“ کے الفاظ زائد کئے گئے ہیں۔کیونکہ وہاں ورق دریدہ ہے۔آپ اس چٹھی میں یہ بھی تحریر فرماتے ہیں کہ میں انصار اللہ کا خادم اور وقف اوّل کے زمانہ کا واقف ہوں۔چنانچہ وقف اوّل کے زمانہ کی بعض کا رروائیاں بعینہ میرے پاس محفوظ ہیں“ ( تحریر مورخہ ۳ / نومبر ۱۹۴۶ء) حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی تالیف ” ذکر حبیب“ کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وقف کی تحریک اکتوبر ۱۹۰۷ء میں فرمائی تھی۔(صفحہ ۱۵۲) بقیہ حاشیہ :۔سو اس طرح میرے خاوند۔میرے بیٹے عزیز عبد القادر اور میرے سمیت ہمارے خاندان میں دس صحابہ ہیں۔فالحمد اللہ علی ذالک۔(از مؤلف ) بھائی جی کی موجودگی میں آپ کی اہلیہ محترمہ سے معلومات حاصل کرنے پر ذیل کے قرائن دریافت ہوئے۔جن سے ان کے والد صاحب اور بھائی صاحب کی پہلی قادیان میں آمد کے سالوں کی ایک حد تک تعیین ہوتی ہے۔(الف) بھائی جی کی شادی ( شادی آغاز ۱۹۰۲ء) سے ایک دو سال پہلے شیخ علی محمد صاحب قادیان آئے۔گویا انداز ا۰۱-۱۹۰۲ء میں۔(ب) والد صاحب سے کچھ عرصہ پہلے شیخ احمد دین صاحب قادیان آئے گویا ۱۸۹۹ ء یا ۱۹۰۰ء میں۔اس وقت میاں عبدالحئی صاحب گود میں تھے اور ان کو شیخ صاحب کھلاتے تھے۔( یوم ولادت میاں صاحب ۱۵ فروری ۱۸۹۹ء)