اصحاب احمد (جلد 9) — Page 97
۹۷ آپ تحریر فرماتے ہیں : سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس خواہش پر کہ لوگ خدمت اسلام کے لئے بقیہ حاشیہ مسجد مبارک میں تشریف فرما ہونے پر والد صاحب نے دادا جی کا سلام اور پیغام عرض کیا۔لنگر کے لئے آٹا پیش کیا اور دستی بیعت بھی کی۔ہمارے خاندان میں میرے علاوہ مندرجہ ذیل صحابہ ہیں اور ان کو بحالت ایمان حضرت اقدس کی زیارت کا موقعہ نصیب ہوا۔( پہلے چھ بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں اور ان کی تاریخ ہائے وفات خاکسار مؤلف نے مقبرہ کے ریکارڈ کے مطابق درج کی ہیں ): ۱- والد صاحب شیخ علی محمد صاحب ( وفات ۱۷؍ دسمبر ۱۹۱۵ء به عمر باسٹھ سال) -۲- والدہ صاحبہ اللہ جوائی صاحبہ ( وفات ۲۱ / اگست ۱۹۴۳ء بعمر نوے سال) محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو گودی کھلانے کی سعادت ان کو حاصل ہوئی تھی۔-٣ چھوٹی ہمشیرہ احمد بی بی صاحبہ (وفات سے نومبر ۱۹۱۰ء بعمر پندرہ سال ) غیر شادی شده -۴- عنایت بیگم صاحبہ جو میرے بھائی شیخ احمد دین صاحب کی اہلیہ تھیں۔وہ لاہور کے ایک مغل خاندان سے تھیں اور یہ رشتہ خاندان مرزا نظام الدین صاحب نے کرایا تھا۔(وفات اار دسمبر ۱۹۲۸ء) -۵- میرے پھوپھا فضل الدین صاحب غیر احمدی تھے۔ان کی اجازت سے ان کے بیٹے عبداللہ حضرت اقدس علیہ السلام کے عہد مبارک میں حصول علم کے لئے قادیان آگئے تھے اور پھر یہاں پر انڈے وغیرہ فروخت کرنے کی دکان کر لی تھی۔( غیر شادی شده وفات ۱۶ / اکتوبر ۱۹۱۸ء) -۶- شیخ احمد دین میرے بھائی مدفون بہشتی مقبرہ ربوہ ( تاریخ وفات ۳۰ ستمبر ۱۹۵۷ء ) والد صاحب نے اپنے پہلی بار قادیان آنے سے کچھ عرصہ پہلے ان کو حضرت مولوی نور الدین صاحب سے طب پڑھنے کے لئے قادیان بھیج دیا تھا لیکن بھائی کی آنکھیں کمزور تھیں۔اس لئے حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ تم طب نہیں پڑھ سکتے۔بھائی حضرت مولوی صاحب کے ہاں ہی ٹھہرے ہوئے تھے۔حضور کے صاحبزادہ میاں عبدالحئی صاحب گود میں تھے۔بھائی ان کو کھلاتے تھے۔جس وقت والد صاحب پہلی بار قادیان آئے تو اس وقت بھائی قادیان میں نہیں تھے۔ے رخصتا نہ ہو کر قادیان بھائی جی کے ہمراہ آنے پر میری چھوٹی ہمشیرہ کرم بی بی بھی ساتھ آئیں۔سو عزیزہ نے حضرت اقدس علیہ السلام کی زیارت کا موقع پایا۔والدین کے ہجرت کر آنے سے پہلے عزیزہ وطن میں اندازاً پندرہ سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ابھی ان کی شادی نہیں ہوئی تھی۔