اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 80 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 80

۸۰ کافی ہو جائے گا۔آپ نے یہ گھوڑی سات سو روپیہ میں خریدی تھی۔تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ گھوڑی کو درد قولنج ہوا اور راولپنڈی پہنچ کر وہ مرگئی۔ٹانگے والوں کو کرایہ بھی دینا تھا۔آپ ٹہل رہے تھے۔میں نے عرض کی ٹانگہ والے کرایہ طلب کرتے ہیں۔آپ نے نہایت رنج کے لہجہ میں فرمایا کہ نورالدین کا خدا تو وہ مرا پڑا ہے۔اب اپنے اصل خدا کی طرف توجہ کرتے ہیں وہی کارساز ہے۔تھوڑی دیر کے بعد ایک سکھ اپنے بوڑھے بیمار باپ کو لے کر حاضر ہوا۔آپ نے اسے دیکھ کرنسخہ لکھ دیا اس نے ہمیں اتنی رقم دے دی کہ جموں تک کے اخراجات کے لئے کافی ہو گئی۔“ (۱۲) حکیم صاحب کے اس رشتہ دار نے یہ بھی سنایا کہ میں ایک دفعہ حضرت مولوی صاحب کے ساتھ لاہور آیا۔آپ کے روپئے میرے پاس تھے اور آپ کے ارشاد کے مطابق خرچ کرتا تھا۔حتی کہ سب روپیہ خرچ ہو گیا۔رات کو آپ ایک دوست کے ہاں ٹھہرے۔صبح ہوئی تو جموں واپس جانے کے لئے اسٹیشن کی طرف چل پڑے میں نے خیال کیا کہ آپ نے اس دوست سے کرایہ کے لئے رقم لے لی ہوگی۔جب ہم اسٹیشن پر پہنچے تو آپ ایک بنچ پر بیٹھے میں نے ٹکٹ کے لئے روپئے طلب کئے آپ نے فرمایا تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ۔کچھ دیر کے بعد ایک آدمی آیا اور آپ سے پوچھنے لگا آپ نے کہاں جانا ہے۔آپ نے فرمایا جموں۔اس نے کہا کہ آپ نے ٹکٹ لے لی ہے۔فرمایا ابھی نہیں۔اس نے پوچھا آپ کتنے آدمی ہیں فرمایا دو۔وہ بھا گا ہوا گیا اور جموں کے دوٹکٹ لے آیا اور کہنے لگا کہ گاڑی تیار ہے۔چلئے گاڑی میں وہ بھی ساتھ بیٹھ گیا اور اپنی بیماری کا حال بتا تا رہا۔آپ نے اسے نسخ لکھ کر دیا اور وہ راستہ سے واپس آ گیا۔“ (۱۳) حکیم صاحب کے رشتہ دار نے یہ بھی سنایا کہ ایک دن ایک مہترانی نے آ کر کہا کہ میرے لڑکے کے پیٹ میں سخت درد ہے۔آپ نے پوچھا کیا وہ یہاں نہیں آ سکتا۔اس نے کہا نہیں۔آپ نے پوچھا تمہارا گھر کتنی دور ہے۔اس نے کہا نزدیک ہی ہے۔میں نے کہا یہ جھوٹ کہتی ہے۔ان کی ٹھٹھی شہر سے قریباً دو میل دور ہوگی۔مگر آپ اس کے ساتھ چل پڑے۔جب اس کے گھر پہنچے تو وہ بہت گندہ تھا اور اس کا لڑکا چار پائی پر گندے کپڑوں میں لیٹا ہوا پڑا کراہ رہا تھا۔آپ ایک پیڑھی پر بیٹھے۔نسخہ لکھ کر مجھے دیا کہ شہر سے جا کر لے آؤں۔ابھی میں