اصحاب احمد (جلد 8) — Page 67
۶۷ (1) میری اہلیہ اول ۱۲ نومبر ۱۹۱۵ء کو قادیان میں داغ مفارقت دے گئیں۔چونکہ ان کی وصیت آخری وقت کی تھی اس لئے منظور نہ ہو سکی۔بعد جمعہ مدرسہ احمدیہ کے صحن میں جو احباب کی کثیر تعداد کی شمولیت سے بھر گیا۔حضور نے نماز جنازہ پڑھائی۔جس میں بہت لمبی دعا فرمائی اور پھر جنازہ کے ہمراہ قبرستان تشریف لے گئے اور بعد تدفین بھی بہت لمبی دعا فرمائی۔دوسرے دن میں نے مرحومہ کے زیورات کا حساب کر کے ان کا ایک تہائی وصیت میں حضور کے پیش کر دیا۔حضور نے ایک نئے مقبرہ کی خرید کے لئے رقم داخل خزانہ کرا دی۔یہ وہی مقبرہ ہے جس میں بچے اور ایسے لوگ دفن ہوتے تھے جو بغیر وصیت کے ہوتے تھے۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کو الہام الہی نے دل کا حلیم قرار دیا ہے اور یہ برحق ہے۔اگر ایک طرف قاعدہ کی رو سے بہشتی مقبرہ کے لئے وصیت بوجہ مرض الموت میں کی جانے کے منظور نہیں ہوسکی تو دوسری طرف حضور نے کمال حلم و شفقت سے دلداری فرماتے ہوئے مرحومہ کی مغفرت کے لئے لمبی دعا ئیں فرما ئیں اور اللہ تعالیٰ نے چوہدری صاحب کو اپنی اور اپنی اہلیہ مرحومہ کی نیت کو عملی جامہ پہنا کر مالی قربانی کی توفیق عطا کی اور اسے موجب ثواب بنایا۔(۷) ۱۹۶۰ء کا ذکر ہو گا کہ میں نے اپنے وطن میں خواب دیکھا کہ چوہدری حاکم دین صاحب جو کہ اس وقت قادیان کے بورڈنگ میں ملازم تھے آئے ہیں۔چونکہ خواب سچی تھی اس لئے مجھے یقین تھا کہ وہ ضرور آج آئیں گے اور اہلیہ سے کہا کہ چینی وغیرہ منگوا رکھیں۔ایک مہمان نے آنا ہے۔دریافت کرنے پر کہ کیا کوئی خط آیا ہے۔میں نے خواب سُنا یا چونکہ وہ میری کئی خواہیں پوری ہوتی دیکھ چکی تھیں۔اس لئے انہوں نے کھانا تیار کر چھوڑا۔میں باہر کنوئیں پر چلا گیا۔تین بجے بعد دو پہر مجھے خیال آیا کہ چوہدری صاحب ضرور آ گئے ہوں گے۔چنانچہ گھر واپس لوٹا اور اہلیہ سے دریافت کیا۔وہ ہنس پڑیں اور کہا کہ چوہدری صاحب آئے تھے اور کھانا کھا کر نماز ادا کرنے مسجد گئے ہیں۔(۸) میں نے خواب دیکھا کہ میری بہن کی شادی میری چچا زاد بہن کے خاوند سے ہو رہی ہے اور ساتھ ہی دیکھا کہ ایک چھوٹا سا بچہ ہاتھ پاؤں کے بل میری طرف رینگتا ہوا آ رہا ہے اور