اصحاب احمد (جلد 8) — Page 16
۱۶ یہ موسم گرما تھا چند دن کے قیام کے بعد آپ اور آپ کے ساتھی قادیان سے جانے لگے۔اور ارادہ کیا کہ رات ہی بٹالہ پہنچ کر صبح کی گاڑی سے روانہ ہوں۔چنانچہ حضور کی خدمت میں اجازت لینے کے لئے حاضر ہوئے تو حضرت مولوی صاحب سے مخاطب ہو کر فرمایا۔”آپ کبھی کبھی ملا کریں۔اور سب کو شرف مصافحہ عطا کر کے فرمایا اچھا خدا حافظ قادیان سے بٹالہ تک پانچ دفعہ سانپ ملے۔ایک تو حضرت مولوی صاحب کے پاؤں کے اوپر بھی چڑھ گیا لیکن خدا حافظ کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا۔ایک دفعہ آپ نے حضرت اقدس کی خدمت میں مسجد مبارک میں مغرب کی نماز کے بعد اپنا ایک قصیدہ بائیہ سنایا۔اگلے روز حضور نے آپ کو یاد فرمایا لیکن مولوی صاحب کہیں گئے ہوئے تھے۔تیسری بار جب حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد خلیفہ ثانی) مولوی صاحب کو بلانے کے بقیہ حاشیہ: ذکر نہیں بلکہ مکرم قاضی اکمل صاحب، مکرم مولانا راجیکی صاحب اور اپنا ذکر ہے۔حقائق بالا سے یہ امر ثابت ہے کہ حضرت مولانا امام الدین صاحب کو استخارہ کے بعد رؤیا جنوری ۱۸۹۸ء کے قریب ہوئی۔آپ کا بیان ہے کہ اس سے میرے شکوک رفع ہو گئے لیکن پھر مخالفانہ کتاب کے مطالعہ نے دل پر اثر کیا اور اکثر دوستوں اور شاگردوں کے رویا نے یقین کوترقی دی۔مولانا راجیکی صاحب نے بتایا کہ میں نے گیارہ دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت مرزا صاحب کی صداقت سنی ہے ایسے بہت سے دوستوں نے ایسے ہی رویائے صادقہ سے میرے یقین کی امداد فرمائی۔ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گیارہ دفعہ ملاقات مولا نا راجیکی صاحب کو ایک طویل عرصہ میں ہوئی ہوگی۔اس لئے مولانا راجیکی صاحب کا یہ بیان کہ حضرت مولا نا امام الدین صاحب نے ۱۸۹۹ء میں بیعت کی خودمولا نا امام الدین صاحب کے بیانات کے اجزا سے ہی بپایہ ثبوت پہنچتا ہے اور دیگر احباب کے بیانات سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔آخر پر پھر میں عرض کرتا ہوں کہ میری غرض کسی بزرگ کی تنقیص نہیں۔صرف ایک تاریخی امر کے متعلق اپنی رائے ظاہر کی ہے۔(مؤلف)