اصحاب احمد (جلد 8) — Page 15
۱۵ ایک دفعہ آپ نے ایک تائیہ قصیدہ جو ایک سو تینتیس (۱۳۳) اشعار کا تھا۔مسجد مبارک میں حضور کی خدمت میں سنایا۔جس کا ایک شعر حضور نے بہت ہی پسند فرمایا اور دوبارہ پڑھنے کی فرمالیش کی۔وہ شعر یہ تھا:- اتؤيّدون بـحـمـقـكـم دجالـكـم بحیات عیسیٰ سیدالا مواتِ بقیہ حاشیہ: - ایک سنگِ میل کا حکم رکھتا ہے۔تریسٹھ سال گذرنے پر بھی ہندو قوم پر اس نشان کی اہمیت کا گہرا اثر ہے اور وہ ہر سال سوگ مناتے ہیں اور اُسے بھلا نہیں سکے۔بہر حال مولا نا امام الدین صاحب اس نشان کے پورا ہونے کا قرب نہیں بھول سکتے تھے۔گو ممکن ہے یہ امر بھول گئے ہوں کہ یہ نشان اس وقت پورا ہو چکا تھا۔جب آپ پہلی بار قادیان آئے یا جلد بعد پورا ہوا۔آپ کا کہنا کہ غالباً لیکھرام قتل ہو چکا تھا اس نتیجہ کی طرف میری راہنمائی کرتا ہے۔سونتیجہ یہ نکلا کہ:- (۱) لیکھرام کے قتل کے سال ۱۸۹۷ء میں ار ربیع الثانی کو (جو مطابق جنتری ۹ر ستمبر ہے ) آپ پہلی بار قادیان آئے۔گویا 9 / یا استمبر کو قادیان آئے ہوں گے۔( کیونکہ ا ر کو جمعہ تھا اور آپ کے بیانات میں ظہر کی نماز ہو چکنے کا ذکر ہے اور بظاہر یہ بھی ممکن نہیں کہ عرس پر آئے ہوں اور وہاں جمعہ ترک کر کے قادیان آگئے ہوں جہاں احمدیوں کے ساتھ نماز علمائے وقت کے نزدیک اور خود پیر صاحب بٹالہ کے نزدیک جائز نہ تھی اور نہ ہی پیر صاحب جمعہ ترک کر کے قادیان جانے کی اجازت دے سکتے تھے ) (۲) وطن واپس جا کر آپ نے قریباً چار ماہ استخارہ کیا۔گویا ۱۰ یا ۱۲ ستمبر کو آپ وطن واپس پہنچے تو انداز ۱۲۴ جنوری ۱۸۹۸ء تک آپ نے استخارہ کیا۔(۳) گو قریباً چار ماہ بعد جو رویا ہوئی اور اس سے شکوک رفع ہوئے لیکن مخالف کی کتاب نے دل پر اثر کیا۔بہر حال اس رؤیا کے بعد گویا ۱۲ جنوری ۱۸۹۸ء کے بعد آپ نے بیعت کی لیکن رؤیا کے کتنے عرصہ کے بعد اس کا کہیں ذکر نہیں۔مکرم مولوی غلام رسول صاحب نے جو قتل لیکھرام کے بعد ۱۸۹۷ء میں بیعت کا ذکر کیا ہے۔وہاں حضرت مولانا امام الدین صاحب کا