اصحاب احمد (جلد 8) — Page 133
۱۳۴ افضال الہی ۱۹۰۵ء میں حضرت مسیح موعود کی زیارت کے لئے تضرعانہ دعا نے تین بارایسے مواقع ہم پہنچائے۔حضور کے وصال کے انتہائی غم میں بھی شرکت نصیب ہوئی۔اس کی قبولیت کا پیر پھلدار بنا اور یہ پانچواں پھل تھا جو مجھے نصیب ہوا کہ حضرت محمود نے اپنی علالت میں خدمت کے لئے مجھے بلایا اور روزگار اور اہل وعیال کی پرواہ کئے بغیر اور بھائیوں کی امیدوں کو خاک میں ملاتے ہوئے حضور کی خدمت میں حاضر ہونے کی توفیق نصیب ہوئی اور اسی کمرہ میں لا بسایا جس میں حضرت مسیح موعود نے ایک زمانہ گزارا تھا اور یا ایها النبي اطعموا الجائع والمعتر کا الہام کرنے والے نے حضرت مسیح موعود کے فرزندار جمند کے گھر سے سوا تین ماہ تک دو وقت بلکہ چار وقت کھانا کھلوایا جبکہ کئی بار حضرت سیّدہ ام المومنین کے اپنے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا ہوتا تھا۔۱۹۰۵ ء والی زیارت کے نتیجہ میں حضرت محمود کی زیارت ہوئی تھی اور اب وہ مجھے فرماتے ہیں کہ میری اجازت کے بغیر کمرہ سے نہ نکلیو اور آؤ ہم ملکر کھانا کھائیں۔کیا ہی ذوالقدرة والملوکوت ہے وہ جس نے شوق دیدار پیدا کیا۔یہ ہے خدا جس نے دعا کروائی۔یہ ہے خدا جس نے کرنل محمد رمضان کو درشتی کے لئے کہا اور سمجھ سے زور سے دعا کروائی اور رزق خاص عطا کئے جانے کی دعا سکھائی اور قبول فرمائی۔غیر معمولی حالات میں ڈاکٹر بنوایا اور پھر محبوب کے قدموں میں آپ کا اپنا بیٹا بنا کر لے آیا۔پس ایسے محسن رب کا کیا کچھ شکر ادا ہوسکتا ہے سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم 66 بقیہ حاشیہ: - ان ایام میں خدا نے حضرت خلیفہ مسیح کی خدمت کا خاص موقع دیا ہے۔‘ ۲۵ روانگی کے سلسہ میں زیرہ مدینہ اسی ، مرقوم ہے :- ” جناب ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب پٹیالوی جو کئی ماہ حضرت خلیفہ المسیح ثانی ایدہ اللہ کی خدمت میں رہے رخصت ختم ہو جانے کی وجہ سے واپس تشریف لے گئے ہیں۔حضور نے ان کی روانگی پر بہت سے احباب کی دعوت فرمائی اور ڈاکٹر صاحب کو قصبہ سے باہر تک وداع کرنے کے لئے تشریف لے گئے۔۲۶