اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 132 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 132

۱۳۳ حضور کا سب سے پہلا حکم مجھے یہ ملا تھا کہ میری اجازت کے بغیر کمرہ سے باہر نہیں جانا۔-۴- میرا کھانا اُسی کمرہ میں حضور کے کھانے کے ساتھ آتا تھا اور ہم دونو اکثر دفعہ اکٹھے بیٹ کر کھانا کھاتے تھے۔-۵- حضرت ام المؤمنین اس کمرہ سے ذرا فاصلہ پر ایک کمرہ میں رہتی تھیں۔جس کے لئے ایک چھوٹا حسن تھا۔میرے استعمال میں وہی بیت الخلاء تھا جو سیدہ ام ناصر صاحبہ اور ان کے بچوں کے لئے تھا۔الغرض میں تین ماہ تک خادم بھی بنارہا۔مہمان بھی بنار ہا مہمان بھی اور کنبہ کا نمبر بھی۔میں یہ تو نہیں کہتا کہ میرے علاج سے ، ہاں یہ کہتا ہوں کہ میرا رب محسن میرا معین و مددگار رہا اور میرے قیام کے اس عرصہ میں حضور ایدہ اللہ کی صحت میں ترقی ہوئی اور حضور نے میری لمبی رخصت ختم ہونے پر مجھے بخوشی واپس جانے کی اجازت دی۔گو جہاں تک میرا احساس ہے حضور کی خواہش یہی تھی کہ میں رہ پڑوں اور میرا دل بھی جدائی سے تکلیف محسوس کر رہا تھا۔جیسا کہ ایک بچہ جس کا دودھ چھڑایا جائے ، روتا اور بلبلاتا ہے میں نے واپس روانہ ہونے سے پہلے جن دلی جذبات کا اظہار کیا۔ان میں سے ایک یہ تھا کہ گو میں اس وقت حضور کے اجازت دینے پر رخصت کے ختم ہونے کی مجبوری کی وجہ سے واپس جارہا ہوں لیکن میں یہی سمجھتا ہوا جا رہا ہوں کہ جیسے حضور مجھے کسی ڈیوٹی پر بھیج رہے ہیں پھر تحریر میں میرا یہ شعر لکھنا بھی مجھے آج تک یاد ہے۔یہ سراسر فضل واحساں ہے کہ میں آیا پسند ور نہ خدمت میں تیری کچھ کم نہ تھے خدمت گذار حضور نے عزت افزائی فرماتے ہوئے میرے اعزاز میں ایک وسیع دعوت دی اور مجھے سوار کروانے کے لئے یگوں کے اڈے تک تشریف لے گئے۔اس وقت میری اہلیہ فاطمہ امتہ الحفیظ اور دونوں بچے عزیزم محمد حمد اور عزیزہ زینب بھی ساتھ تھے کہیں الفضل میں چار ایام کی حضور کی صحت کے متعلق اطلاعت درج ہو کر یہ مرقوم ہے کہ مندرجہ بالا اطلاعیں جناب ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب پٹیالوی کی دی ہوئی ہیں۔جنہیں