اصحاب احمد (جلد 8) — Page 113
۱۱۴ اس وقت ہمراہ پانچ چھ سو افراد سے کم نہ تھے۔مجھے جنازہ کو کندھا دینے کا موقع ملا۔گاڑی پانچ بجے شام کے قریب بٹالہ کے لئے روانہ ہوئی اور قریب نو بجے کے بٹالہ پہنچی۔جسد مبارک کے تابوت کو جس کے اندر باہر برف رکھی ہوئی تھی، ریلوے اسٹیشن بٹالہ کے پلیٹ فارم پر کھلی جگہ میں رکھدیا گیا اور لاہور سے ساتھ آنے والے احباب جن میں یہ عاجز بھی شامل تھا اور وہ احباب جو دیگر مقامات سے آگئے تھے جنازہ کے اردگرد بیٹھ رہے یازمین پر لیٹ رہے۔مجھے بیٹھ کر رات گزارنے کا موقع ملا۔صبح تین بجے کے قریب تابوت کو جسے چار پائی پر باندھا گیا تھا اور لمبے لمبے بانسوں کے ذریعہ کندھا دینے کا انتظام کیا گیا تھا دو ڈیڑھ سو احباب اٹھا کر قادیان کو روانہ ہوئے۔خاکسار کو اپنی کمزوری اور قد چھوٹا ہونیکی وجہ سے بانسوں کے نیچے کندھا دینے کا موقع نہیں ملتا تھا۔اس لئے میں نے اپنا سر چار پائی کی پچھلی پٹی کے نیچے لگا دیا اور بہت دور تک اسی حالت میں رکھے رکھا اور اپنی دلی خواہش کو پورا کیا۔راستہ میں نماز فجر ادا کی گئی اور تابوت ساڑھے آٹھ بجے کے قریب قادیان پہنچایا گیا اور جسد مبارک اس مکان میں رکھا گیا جو بہشتی مقبرہ والے باغ میں بنا ہوا تھا۔احباب قادیان مردوزن حضور کی آخری زیارت کرنے لگے اور یہ سلسلہ کئی گھنٹے تک جاری رہا۔مجھے بھی حضور کا روئے مبارک تدفین سے پہلے آخری بار دیکھنے کا موقع ملا۔الغرض مجھے غم واندوہ میں حصہ دار بنے کا موقع خاص اہتمام سے عطا ہوا اور میں نے خوب ہی غم کھایا جو ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتا۔حضرت خلیفہ اول کا انتخار بعد دو پہر دو تین بجے کے قریب میں نے دیکھا کہ ایک گروہ جس کے پیشرو خواجہ کمال الدین صاحب تھے ، حضرت مولوی نور الدین صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور خواجہ صاحب نے حضرت مولوی صاحب سے درخواست کی کہ بیعت خلافت لیں۔کچھ دیر قیل وقال ہوتی رہی۔اس کے بعد دیکھا کہ حضرت مولوی صاحب تقریر کے لئے کھڑے ہوئے ہیں جبکہ بارہ سو کے قریب افراد اس کے سننے کے لئے گرد جمع تھے۔فرمایا کہ احباب مجھ بوڑھے پر خلافت کا بوجھ لا در ہے ہیں۔جس کے لائق میں اپنے آپ کو نہیں پاتا۔میرے نزدیک مجھ سے زیادہ لائق