اصحاب احمد (جلد 8) — Page 112
١١٣ مصنوعی جنازہ نکالا۔یعنی ایک شخص کا مصنوعی جنازہ نکالا۔یعنی ایک شخص کا منہ کالا کر کے چار پائی پر لٹایا اور اس چار پائی کو میت کی چار پائی کی شکل میں ہمارے مکان کے سامنے طرح طرح کی بیہودہ باتیں کرتے ہوئے ہمارے سامنے سے گزارا۔اسی موچی دروازہ کے رہنے والے سمی محمد سعید نے جو ڈاکٹر کہلا تا تھار میلوے کے افسروں کو جھوٹی رپورٹ کر دی کہ نعوذ باللہ حضور کی وفات ہیضہ سے ہوئی ہے تاکہ ریلوے والے جنازہ کے بٹالہ تک لے جانے کے لئے ہوگی نہ دیں۔جس کے لئے پرنسپل میڈیکل کالج ڈاکٹر سدر لینڈ کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا گیا کہ حضور ہیضہ سے نہیں فوت ہوئے تھے۔ڈاکٹر سدر لینڈ کو علاج کی غرض سے بھی بلایا گیا تھا۔ان کے سرٹیفکیٹ سے یہ روک دور ہوئی۔میرے جیسے نا چیز خادم جہاں اپنی دلفگاری میں مبتلا باہر کھڑے ہوئے تلخ گھڑیاں گزار رہے تھے وہاں ان کی نظر حضرت مولوی نور الدین صاحب کی طرف بھی اُٹھ رہی تھی کہ اُن کا کیا حال ہے۔وہ بھی جسم بے جان کی طرح بیٹھے ہوئے نظر آئے۔ایسے حال میں ہی حضرت ام المومنین کے وہ الفاظ کان میں پڑے جو آپ نے عین اس وقت منہ سے نکالے تھے۔جب کہ حضرت مسیح موعود کا دم واپسیں تھا کہ یا اللہ! یہ تو ہمیں چھوڑ رہے ہیں پر تو نہ ہمیں چھوڑ یو۔ان الفاظ سے دل کو کچھ ڈھارس پہنچی کہ ہمارا یگانہ خدا ہمارا خبر گیر ہے۔نماز جنازہ لاہور میں اور قادیان کو روانگی حضور کی نعش مبارک کو غسل دیا گیا اور قریب تین چار بجے بعد دوپہر کے جسد مبارک کو ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان کی اوپر کی منزل سے جہاں حضور نے وفات پائی تھی۔نچلے صحن میں لایا گیا اور حضور کا جنازہ پڑھا گیا۔جنازہ حضرت مولوی نورالدین صاحب نے پڑھایا۔ان کو امام کس نے بنایا؟ احباب حاضر نے۔وہ خود بخو دامام نہ بنے تھے۔پس قدرت ثانیہ کا ظہور دویم احباب جماعت کی اس فراست کی شکل میں نمودار ہوا کہ جس فراست کی وجہ سے حضرت مولوی صاحب کو جنازہ پڑھانے کے لئے امام چنا گیا۔میں بھی اس نماز میں شریک تھا۔نماز جنازہ پڑھانے کے بعد جسد مبارک بند تابوت میں ریلوے اسٹیشن لاہور لے جایا گیا