اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 104 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 104

۱۰۵ نماز مغرب ادا کرتے ہوئے پر ملال دل میں درد پیدا ہوا اور میں دعا میں لگ گیا۔شدّت سے دعا کر رہا تھا تو یہ الفاظ میرے منہ سے نکلے کہ یا الہی تو مجھے ایسا رزق دے کہ میں کرنل جیسے لوگوں کا محتاج نہ بنوں۔اس دعا سے اگلے روز ہی جب میں اپنی دوکان پر گیا اور اسے کھول کر بیٹھ گیا مال تھا نہیں گا ہک کہاں؟ میرے خدا نے ہاں میرے پیارے مولیٰ نے ایک ہندولڑکے کے دل کو پکڑا اور اسے اٹھائے میرے پاس لے آیا۔یہ ہندولڑ کا مادھو رام نامی چند سال پہلے مڈل میں میرا ہم جماعت تھا۔پھر بیماری اور جسمانی دماغی کمزوری کی وجہ سے تعلیم چھوڑ بیٹھا تھا۔نیک دل لڑکا از خود بولا۔یار تیری دکان پر مال تو ہے نہیں بکری کیا ہو گی اور تم کھاتے کہاں سے ہو گے؟ میں نے اس سے کہا کہ میں کروں تو کیا کروں۔جوں توں کر کے میٹرک کا امتحان پاس کیا ہوا ہے۔ملازمت کے لئے کوشش کی تو کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔میری یہ بات سن کر وہ دوست بولا کہ یار تو ڈاکٹڑی پڑھنے چلا جا۔میں نے تعجب سے کہ جس حال میں میرے کھانے پینے کے لئے خرچ نہیں ہے۔تو ڈاکٹڑی پڑھنے کس طرح چلا جاؤں؟ وہ کیا میرے مولیٰ کا بھیجا ہوا بندہ ہاں اطعموا الجائع والمعتر کا الہام بشدت کرنے والے قادر خدا کے بھیجے ہوئے بندہ نے کہا کہ بھئی ڈاکٹری کی تعلیم کے لئے ریاست کی طرف سے وظیفہ ملتا ہے۔جس پر میں نے اسے جواب دیا کہ مجھے وظیفہ کس نے دینا ہے؟ مجھے معمولی نوکری کی کوشش میں بھی ناکامی ہوئی ہے۔اس پر اس نے کہا کہ بھئی! میرے محلہ میں لالہ مولک رام میڈیکل محکمہ کے سیکنڈ کلرک ہیں۔میں ان سے کہوں گا کہ آپ کو وظیفہ دلوا دیں۔میں نے کہا کہ کہد و۔چنانچہ اسی شام کو اس لڑکے نے کلرک مذکور سے کہدیا۔اس نیک کلرک نے میری درخواست چیف میڈیکل آفیسر ریاست پٹیالہ کے پیش کر دینے کا وعدہ کر لیا اور درخواستوں کے پیش کئے جانے کی تاریخ بتلا دی جو چھ سات دن کے بعد کی تاریخ تھی۔تاریخ مقررہ پر میں درخواست وظیفہ لے کر میجر ڈاکٹر Ainswortn آئی ایم ایس کی کوٹھی پر چلا گیا اور لالہ مولک رام نے حسب وعدہ میری درخواست آگے رکھدی۔جس نے