اصحاب احمد (جلد 8) — Page 103
۱۰۴ اس الہام کے دور رس نتائج جلسہ ختم ہوا۔یہ بندہ اپنے پیارے دونوں بھائیوں سمیت اپنے گھر پٹیالہ کو چلا گیا۔اس وقت میٹرک پاس تھا۔مگر روزگار نہ ہونے کے برابر تھا۔والد صاحب کو فوت ہوئے چار مہینے ہوئے تھے۔والدہ سسک رہی تھیں۔اب حد درجہ کی مجبوری کے باعث روزگار کی تلاش کی گئی۔ایک محکمہ میں ملازمت کی درخواست کی مگر شنوائی نہ ہوئی۔ایک ماہ گذر گیا۔ماہ اپریل ۱۹۰۸ء آ گیا۔میرے ایک شفیق استاد نے جن سے میں نے فارسی پڑھی تھی۔از راہ ہمدردی فرمایا کہ مجھے ایک اسامی ایک فوجی کرنل محمد رمضان کے ہاں خالی معلوم ہوئی ہے۔اگر تم کہوتو میں کرنل صاحب سے دریافت کروں کہ وہ ملازمت تمہیں دیدے۔میں تو حاجتمند تھا ہی۔عرض کیا کہ ہاں مہربانی فرماویں۔اس پر وہ مشفق من کرنل کے ہاں گئے۔مگر اس نے ”مرزائی پنے کا سوال اٹھا دیا۔وہ خاموش واپس آگئے اور مجھے قصہ بتلایا اور مجھے کچھ اس طرح کہا کہ وہ مجھے اگلے روز پھر کرنل کے پاس لے جائیں گے اور مجھے فرمایا کہ اگر کرنل احمدی ہونے کا دریافت کرے تو تم خاموش رہنا۔بھلا میرا دل کس طرح یہ گوارا کر سکتا تھا۔اس کے اندر سے یہ الفاظ نکلے کہ جناب عالی۔یہ تو تمیں چالیس روپے کی نوکری ہے۔میں پانصد روپے کی نوکری پر بھی تھوکتا نہیں کہ اپنی احمدیت چھپانی پڑے۔اگلے روز حضرت مولوی عبد القادر صاحب لدھیانہ سے تشریف لے آئے انہوں نے یہ ماجری سنا اور مجھ سے کہا کرنل میرا واقف ہے۔میں تمہیں اس کے پاس لے جاؤں گا۔وہ مجھے جانتا ہے۔وہ میرے کہنے سے ملا زمت دے دیگا۔میں جانا نہ چاہتا تھا مگر حضرت مولوی صاحب کے بزرگانہ ارشاد پر اُن کے ساتھ چلا گیا۔جونہی اس کرنل کے بنگلہ کے باہر کے پھاٹک کے قریب پہنچے تو کرنل نے ایک فاصلہ سے ہمیں کھڑے ہوئے دیکھ کر کہا۔مولا نا ! مولا نا ! یہاں کوئی ملازمت نہیں۔جب ہم ذرا قریب ہوئے تو درشتی کے لہجہ میں کہا کہ میں نے کل ایک سکھ لڑکے کو وہ نوکری دے دی ہے۔مجھے کرنل کے اس عمل وسلوک سے سخت رنج پہنچا اور اسی حال میں میں واپس گھر پہنچا اور