اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 95 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 95

۹۶ بر کسے چوں مہربانی می کنی از زمینی آسمانی ے کنی حسن و خلق دلبری بر تو تمام صحبت بعد از لقائے تو حرام ۱۴ اپنی نو عمری میں یہ دونوں نظمیں ترنم کے ساتھ پڑھا کرتا تھا۔خصوصاً فارسی کی نظم رات کے پچھلے حصہ میں پُر در دلجہ میں جب پڑھنا نصیب ہوتی تو میرا دل اپنے رب کی طرف کھنچا چلا جاتا اور ایسا سرور دل میں پیدا ہوتا کہ کس اور نظارہ یاکسی مجلس یا کسی شغل میں وہ لذت ہرگز نہ پائی تھی۔“ حضرت اقدس کی زیارت جب میری عمر اٹھارہ سال کی ہوئی تو میرے دل کو شوق دیدار یار ( مسیح پاک) نے پکڑ لیا اور مولیٰ کے حضور گریہ و بکا کرنے پر مجبور کر دیا۔چنانچہ ایک روز اللہ تعالیٰ کے حضور رو رو کر دعا کی تو کچھ دنوں بعد رویا ہوئی۔”میں دیکھتا ہوں کہ میں اپنی مسجد کے حجرے میں لیٹا ہوا ہوں اور وہ ماہ خوباں دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا ہے۔نظر پڑتے ہی فرط محبت سے چار پائی سے اُٹھ کر اپنے شفیق اور مہربان اور ماں باپ سے بھی زیادہ پیارے باپ کو لپٹ جاتا ہوں اور رونے لگ جاتا ہوں اور اس طرح پر اعلیٰ لذت اور تسکیں حاصل کرتا ہوں۔“ اس پاک اور سچی رؤیا کو دیکھے ابھی ایک دو ماہ ہی گذرے تھے کہ اگست ۱۹۰۵ء میں مجھے قادیان جانا اور پہلی مرتبہ پیارے آقا کی زیارت کرنا، حضور کے دست مبارک پر بیعت کرنا اور پاؤں دبانے کی عزت حاصل کرنا اور دس روز تک وہاں قیام کرنا نصیب ہوتا ہے۔یہ کوئی دعانہ تھی بلکہ نار عشق کی بھڑک تھی جس نے اس قدر اثر دکھایا کہ مجھ نا چیز وفادار کو کوچہ ء یار میں پہنچا دیا۔اس بارہ میں سیرۃ المہدی حصہ سوم میں آپ کی ذیل کی روایت درج ہے:- میں ۱۹۰۵ ء کی موسم گرما کی چھٹیوں میں جبکہ ( میں ) اپنے سکول کی نویں جماعت کا طالب علم تھا۔پہلی مرتبہ قادیان آیا تھا۔میرے علاوہ مولوی عبداللہ صاحب عربی مدرس مهنور کالج و ہائی سکول پٹیالہ ، حافظ نور محمد صاحب مرحوم سیکرٹری جماعت احمد یہ پٹیالہ مستری