اصحاب احمد (جلد 8) — Page 91
۹۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمارے سامنے اگلی صف میں آ کر بیٹھ گئے۔اس وقت میری دلی خواہش تھی کہ حضور کو قریب سے دیکھ لوں جو پوری ہو گئی فالحمد للہ۔جس وقت حضور ہمارے سامنے بیٹھے تھے تو اس وقت ہندوستان سے آنے والے مہمان دوستوں میں سے بعض نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ حضور ہم سات احمدی بھائیوں پر خاص فضل ہوا ہے وہ اس طرح کہ ہم ساتوں احمدی بھائی ہندوستان سے امرتسر کی طرف قادیان کے لئے سفر کر رہے تھے۔جب ہماری گاڑی لدھیانہ پہنچی تو ہم ساتوں اس خیال سے وہاں اتر گئے کہ ہم لدھیانہ کے احباب کے ساتھ مل کر قادیان کو چلیں۔ان سے پرانے واقعات معلوم ہو جائیں گے جب ہماری چھوڑی ہوئی گاڑی آگے گئی تو لد ہو وال کے اسٹیشن کے قریب ٹکراگئی اور سینکڑوں جانیں ضائع ہوگئیں۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی پگڑی کا سراد بہن مبارک کے آگے کر لیا اور مسکرائے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہمارے دوستوں کی حفاظت فرمائی ہیں نیز بیان کرتے ہیں کہ حضور کی بیعت کے شرف سے اللہ تعالیٰ نے مجھے دنیا کی مسموم ہوا سے محفوظ کر لیا اور اپنے در کا گدا بنائے رکھا۔غناء دی ، تکلیفوں کے اٹھانے کی ہمت بخشی۔بیوی اور بچوں کی خدمت کی توفیق دی۔دوستوں کے ساتھ دوستی نبھانے کی توفیق ملی۔میرے دوستوں میں مندرجہ ذیل بزرگ شامل ہیں۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب مرحوم ، حضرت حافظ روشن علی صاحب مرحوم، حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی، نواب اکبر یار جنگ صاحب مرحوم ، قریشی محمد افضل صاحب پٹیالوی اور خان صاحب عبدالکریم صاحب بنوڑی مدفون بہشتی مقبرہ۔مجھے خدا تعالیٰ کے فضل سے عمر بھر تبلیغ کا موقع ملتارہا۔چھ ماہ تک آنریری طور پر ملکانوں میں تبلیغ کی توفیق ملی۔میرے ذریعہ بہت سے احمدی ہوئے۔صرف علاقہ ملکانہ میں باون مردوزن میرے ذریعہ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔ملکانوں میں تین لوگوں کو میں نے قرآن مجید بھی پڑھایا۔جب میرے ذریعہ ہونے والے احمدی قادیان آتے تو مجھے کندھوں پر اخبار مارننگ پوسٹ دہلی کی خبر کی رو سے اس خوف ناک حادثہ میں جو ۲۵ دسمبر ۱۹۰۷ء کو ہوا تھا۔اڑھائی صد جانوں کا اتلاف ہوا تھا۔الحکم ۶ جنوری ۱۹۰۸ء ص۸،۷ (مؤلف)