اصحاب احمد (جلد 7) — Page 92
92 ان کے بی اے تک تعلیم یافتہ ہیں اور انگریزی اور اردو ترجمے ویدوں کے پڑھتے ہیں اور دن رات دین کی تعلیم پاتے ہیں۔(84) ،، (85) "" تم کسی شہر یا قصبہ میں چلے جاؤ اور تحقیقات کر لو کہ کس قدر اس میں آریہ سماجی ہیں اور کس قدر ان میں سے وید دان ہیں۔پس جب کہ آریہ سماجی بنے کی یہ کیفیت ہے تو پھر کون ایسے تعلیم یافتہ نومسلم آریوں پر اعتراض کر سکتا ہے جو اول ہندو تھے اور پھر سناتن دھرم اور آریوں کے اصولوں کو خوب معلوم کر کے اور اس کے مقابل پر اسلام کے اصول دیکھ کر اور سچائی اور عظمت الہی اس میں مشاہدہ کر کے مشرف باسلام ہو گئے محض خدا کے لئے دکھ اٹھائے اور بیویوں بھائیوں عزیزوں سے الگ ہوئے اور قوم کی گالیاں سنیں۔ان نو مسلم آریوں کے تبدیل مذہب کو غرض نفسانی پر محمول کرنا یہ طعن ہندوؤں کا کچھ نیا نہیں خود غرضی کا الزام تو بہت ہی قابل شرم ہے۔کیونکہ بعض ہندو امیروں رئیسوں اور راجوں نے اسلام کے بعد کئی لاکھ روپیہ دینی امداد میں دیا ہے اور ہمارے غریب نومسلم آریہ ہمیشہ اپنی کمائی سے ہمیں چندہ دیتے ہیں۔پھر تعجب کہ یہ مخالف لوگ ایسے بے جا بہتانوں سے باز نہیں آتے اور جس حالت میں اکثر آریہ اپنی عورتوں کو چھوڑ کر اسلام کی طرف آتے ہیں تو اس صورت میں پھر ان کو عورتوں کا الزام دینا کیا اس قسم کے اعتراضات دیانت کے اعتراض ہیں۔“ ( ایک جاہل سے جاہل سناتن دھرم والا جب آریہ بننے کے لئے آتا ہے تو کوئی اس کو نہیں کہتا کہ اول چاروں وید پڑھ لے۔۔۔خاص کر اگر کوئی دولت مند سا ہو کار ہو گو کیسا ہی جاہل ہو تو پھر کیا کہنا ہے۔ایک شکار ہاتھ آ گیا اس کو کون چھوڑے۔بھلا بتلائیے آپ کے لالہ بڈھا مل صاحب کتنے وید پڑھے ہوئے ہیں جو۔۔۔آریہ بن گئے۔ظاہر ہے کہ جو اعتراض نو مسلم آریوں پر کیا جاتا ہے وہی دراصل آریوں پر بھی ہوتا ہے۔مگر یاد رکھنا چاہیے کہ جو آریہ ہند و مسلمان ہوتا ہے چونکہ اس کو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو بہت سے دشمنوں کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔اس لئے طبعا وہ اسی وقت مسلمان ہوتا ہے جب وہ اپنے دل میں حق اور باطل کا فیصلہ کر لیتا ہے۔تبدیل مذہب کے لئے مذاہب موجودہ کا باہم مقابلہ کرنے کے وقت صرف تین باتوں کا دیکھنا ضروری ہے۔اول یہ کہ اس مذہب میں خدا کی نسبت کیا تعلیم ہے۔دوسرے نفس کے بارے میں اور ایسا ہی عام طور پر انسانی چال چلن کے بارے میں کیا تعلیم ہے۔تیرے کہ وہ اس مذہب کو پسند کرے جس کا خدا ایک فرضی خدا نہ ہو۔۔۔تبدیل مذہب کے لئے ہرگز ایسی ضرورت نہیں کہ کسی دین کے تمام فروع و اصول اور جزئیات کلیات معلوم کئے جائیں۔اس صورت میں ان نو مسلم آریوں کا کیا قصور ہے جو ان ضروری امور کی تحقیق کر کے مشرف باسلام ہوئے ہیں۔۔۔کل ذخیرہ آریہ مت کا بجز شاذ و نادر اشخاص کے انہی عوام الناس سے بھرا ہوا ہے تو پھر کیوں ان غریب نومسلم آریوں پر