اصحاب احمد (جلد 7) — Page 49
49 لیا کہ خون ہو جائے گا ان کو طیش آیا اور ان کا چہرہ سرخ ہو گیا ، انہوں نے چند نو جوانوں کو پورے عزم سے للکار کر کہا کہ تم میں سے جس نے میری دکان میں قدم دھرا میں اسے قتل کر دوں گا۔اس پر لاٹھیوں چاقوؤں سے مسلح نو جوان وہاں سے چلے گئے۔” میرا مقصد یہ تھا کہ اکے دُگنے کو تبلیغ کرنے میں سالہا سال صرف ہوں گے۔ایسے طریق اختیار کئے جائیں جن سے شور مچ جائے۔اور تبلیغ ہو جائے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔براہ راست میرے ذریعے ستر کے قریب افراد نے بیعت کی۔پھر آگے ان کے ذریعے یا خطوط کے ذریعے مزید قریباً تین صدافراد نے بیعت کی (*) چونکہ ابی سی نیا دوسرے ممالک سے الگ تھلگ ہے۔دیگر ممالک کی طرح وہاں خط و کتابت اور تبلیغ کی آزادی نہیں نہ وہاں کے لئے کسی مبلغ اسلام کو پاسپورٹ مل سکتا ہے نہ ہی وہاں سے آنے والوں کو پاسپورٹ کی عام سہولت حاصل ہے۔کھلا جلسہ کرنے سے لوگ ہچکچاتے ہیں۔چندہ باہر بھیجنے میں مشکلات ہیں۔شہنشاہ ابی سینیا سے تین مختلف مواقع پر ملاقات ہوئی اور ان کو ان کے محل میں اسلام اور ظہور مسیح موعود کا پیغام پہنچانے کا موقعہ ملا۔نیز حبشہ میں اسلام کی تاریخ اور احمدیت کے نفوذ کے متعلق بھی حالات گوش گذار کئے اور کتاب ” احمدیت یا حقیقی اسلام (انگریزی ) پیش کی۔حبشہ کی زبان امھاری ہے جس کی اصل عربی اور عبرانی ہے۔نصف الفاظ اب بھی عربی کے ہیں۔رسم الخط کسی زبان سے نہیں ملتا۔قدیم یہودیوں سے ان کی وضع قطع ملتی ہے۔یہودیوں اور کشمیریوں کی طرح پیٹھ پر بوجھ اٹھاتے ہیں۔اپنے تئیں یہودی الاصل بتاتے ہیں۔عیسائیوں کے گرجے بھی یہود کے معاہد کے مشابہ ہیں۔زبور داؤد کو مقدس ترین سمجھتے ہیں۔یہود کی طرح خاص ایام میں دودھ اور گھی کا استعمال نہیں کرتے ختنہ کراتے ہیں۔شراب نوشی کی کثرت ہے تعدد ازدواج کے قائل ہیں۔خنزیر کو نا پسند کرتے ہیں۔موجودہ شہنشاہ نے اصلاحات کر کے گویا کایا پلٹ دی ہے۔ملک کے طول و عرض میں موٹر اور ہوائی سروس اور شفا خانے اور مدارس جاری کروائے ہیں اول زبان ملکی اور دوسری زبان انگریزی ہے جو مدارس میں پڑھائی جاتی ہیں۔عربی لٹریچر کافی سے زیادہ مجھے اخویم چوہدری محمد شریف صاحب فاضل فلسطین سے بھجوا دیتے تھے علاوہ ازیں قادیان ربوہ شام سے اور حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب سکندر آباد دکن سے میں لٹریچر قیمت پر منگوا کر بکثرت تقسیم کرتا تھا۔☆ الفضل میں ” حبثہ میں تبلیغ السلام کے زیر عنوان مرقوم ہے۔حبشہ سے ڈاکٹر نذیر احمد صاحب نے اپنی رپورٹ میں تبلیغ کی تفصیل درج کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ دس آدمی قید خانہ میں بیعت کر چکے ہیں (۳۱)