اصحاب احمد (جلد 7) — Page 41
41 چونکہ قادیان سے باہر تعلیم اور ملازمت کے لئے جاچکے ہیں اس لئے آپ نے مجھے اپنا بیٹا بنالیا ہے۔آپ تہجد کے لئے اُٹھتے پہلے ورزش کرتے اور فرماتے تھے کہ جزائر انڈیمان میں ایک بار مجھے ملیر یا ہو گیا۔تو ایک انگریز نے مجھے بتایا کہ خالی پیٹ ورزش کرنے سے کوئی بیماری نہیں آتی اب میں ساٹھ سال کا ہو گیا ہوں اس وقت تک کبھی ملیر یا وغیرہ نہیں ہوا۔اسی طرح حکیم صاحب بتاتے ہیں کہ آپ مجھے بزرگوں کا اعزاز واکرام کرنے کی تاکید فرماتے۔مجھے حضرات مولوی سرور شاہ صاحب، مولوی شیر علی صاحب، میر محمد الحق صاحب، مفتی محمد صادق صاحب، سید ولی اللہ شاہ صاحب، ملک مولا بخش صاحب (صدر بلدیہ خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب سے استفاضہ کی تاکید فرماتے اور فرماتے کہ اگر ان کے کہنے پر کوئیں سے پانی لا کر ہی پلا دو تو عین خوش بختی ہوگی۔ان کے جوتے سیدھے کیا کرو۔اس سے بھی برکت حاصل ہو کر علم کے لئے ذہن کھلتا ہے اور تم مبلغ بن جاؤ گے۔بہت سے بزرگوں سے آپ نے خود میرا تعارف کرایا۔ایک دفعہ آپ مجھے محترم چوھدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے پاس لے گئے اور میرا ان سے تعارف کرایا اور مجھ سے ان کو قرآن مجید سنوایا ، اس طرح قادیان کے اکثر بزرگوں سے میری واقفیت ہوگئی اور وہ مجھے بے تکلفی سے خدمت کا موقع عطا کرتے۔میں نے دیکھا کہ ایک بار آپ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی سے بیت الدعا کے لئے وقت لینے کے واسطے عرض کرنے گئے تو حضرت مدوح کے احترام کے باعث گویا ماسٹر صاحب تھر تھر کانپتے تھے۔ایک بار مجھے فرمایا کہ درمشین شاہی درباروں میں سنائی جائے گی اور جب صاحبزادگان کا نام آئے گا تو بادشاہ بھی تعظیماً سر وقد کھڑے ہو جائیں گے۔اس وقت اگر کوئی ان صاحبزادگان کے دیکھنے والوں کا دیکھنے والا موجود ہوگا تو اسے بھی خوش قسمت سمجھ کر دیکھنے آئیں گے۔غرض آپ اپنے حال وقال سے تربیت فرماتے تھے۔حکیم صاحب بیان کرتے ہیں کہ چند ماہ گھر پر تعلیم دے کر آپ مجھے شیخ عبدالرحمن صاحب مصری ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ کے پاس لے گئے اور بتایا کہ اس کی کمی کو پورا کرنے کا میں ذمہ دار ہوں۔یہ میرے گھر پر رہتا ہے۔یہ ضرور پڑھے گا اور خدمت دین کرے گا۔حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کے وطن کا ہے لیکن شیخ صاحب نے مجھے مدرسہ احمدیہ میں داخل کرنے سے قطعی انکار کر دیا۔ماسٹر صاحب نے کہا کہ میں ہی تمہیں داخل کروں گا چنانچہ چند روز بعد شیخ مصری قادیان سے باہر گئے ہوئے تھے تو ماسٹر صاحب نے بطور سیکنڈ ماسٹر مجھے مدرسہ میں داخل کرلیا۔میں جماعت میں محترم صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب کے ساتھ بیٹھتا تھا۔ماسٹر صاحب نے صاحبزادہ صاح ہ صاحب کو تاکید کر رکھی تھی کہ مجھے سبق یاد کرایا کریں۔اکثر ہم اکھٹے سبق یاد کرتے تھے۔حکیم صاحب کا بیان ہے کہ ایک بار ایک بھائی مجھے واپس لے جانے کے لئے قادیان پہنچے اور مدرسہ