اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 40 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 40

40 (28) بخلاف آج کل کے عام استادوں کے جو صرف سطحی طور پر اپنا وقت گزار کر چل دیتے ہیں۔یا بچوں کو ایسی غیر ضروری باتوں میں مشغول رکھتے ہیں۔جنھیں سکول Activities کا نام دیا جاتا ہے اور جو رفتہ رفتہ خدا تعالیٰ سے دوری کا باعث بن جاتی ہیں۔حضرت ماسٹر صاحب مرحوم نہایت سنجیدگی اور محنت سے پڑھاتے تھے بلکہ فالتو وقت میں بھی بچوں کو سمجھاتے رہتے تھے۔یہاں تک کہ آپ کو اپنے جانے اور کھانے کا بھی خیال نہ رہتا تھا۔اگر کسی جگہ سے گذرتے وقت بھی ان سے کوئی سوال پوچھا جاتا تو وہیں ٹھہر جاتے اور جب تک سائل کی تسلی نہ ہو جاتی آگے نہ جاتے۔آج کل سکولوں اور کالجوں میں بچوں کی اصلاح کی پرواہ نہیں کی جاتی اور عام طور پر کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ ہمارا کام نہیں لیکن حضرت ماسٹر صاحب مرحوم ایسے درد اور انہماک سے بچوں کی اصلاح فرماتے تھے کہ حضرت مسیح موعود کی آمد کی غرض ظاہر ہونے لگتی تھی۔غرضیکہ بچوں کی صحیح تعلیم ، تربیت اور اصلاح کا بے حد جوش ان کے اندر موجود تھا۔یہی وہ جوش تھا جس نے ان سے تبلیغی میدان میں بھی بہت سے کار ہائے نمایاں سرانجام دلوائے۔ان کے لباس اور عادات کی سادگی بلند اور پاکیزہ خیالی اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں انہاک نیز اسی طرح بعض دوسرے بزرگان سلسلہ کے نیک خصائل ہی تھے جنہوں نے اس وقت مجھے اور بعض دوسرے غیر احمدی لوگوں کو آخر کار جماعت احمدیہ میں داخل کر دیا۔الحمد للہ علی ذالک حکیم محمد سعید صاحب مبلغ سری نگر حضرت ماسٹر صاحب کے حسن سلوک کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں ۱۹۳۳ء میں ایک بزرگ کے ہاں قادیان میں رہتا تھا۔ساتھ کے مکان میں ماسٹر صاحب کی دوسری اہلیہ جو کشمیری تھیں، رہتی تھیں۔ماسٹر صاحب سے واقفیت ہوئی انہوں نے میرے حالات سنے اور مجھے پڑھانا منظور کر لیا اور اپنے گھر پر ہی میرے قیام کا انتظام کر لیا۔آپ مدرسہ سے واپس تشریف لاتے تو دو گھنٹے متواتر مجھے پڑھاتے تا کہ میری کمی پوری ہو جائے۔ایک دفعہ جو مجھے سوال نہ آیا تو آپ نے مجھے خوب مارا۔۔۔۔اور پھر ایک دن اس گھر تشریف نہ لائے۔ایسے مشفق کی جدائی مجھ پر سخت شاق گزری۔میں اگلے روز دوسرے گھر کی طرف ان کے پاس جارہا تھا کہ آپ آتے ہوئے مل گئے۔آپ نے سمجھا کہ میں شاید اس سزا کی وجہ سے گھر سے بھاگ چلا ہوں۔اس لئے فور فر مایا۔سعید میں نے محض تمہاری ہمدردی سے سزادی تھی اگر اس وجہ سے ناراض ہو کر تعلیم ترک کر رہے ہو تو مجھے معاف کر دو۔آپ کے ان کلمات سے میں مرغ بسمل کی طرح تڑپتا ہوا ان کے قدموں پر جا پڑا اور ان سے معافی مانگی۔اس دن سے میں ان کا اور وہ میرے ہو گئے۔میں سات سال آپ کے ہاں رہا آپ نے مجھے اپنے بیٹوں جیسا عزیز رکھا اور مشفق باپ کی طرح دل و جاں سے میری خدمت کی سوائے اس کے کہ جب آپ بڑھاپا محسوس کرنے لگے تو اس گھر کا سودا سلف لانے کا کام میرے ذمہ لگا دیا اور کوئی کام مجھ سے نہیں لیتے تھے ، آپ کی حد درجہ شفقت کے باعث طلباء مجھے کہتے کہ تم ماسٹر صاحب کے بیٹے ہو۔بعض کہتے تھے کہ اہلیہ اول کے بیٹے بڑے ہو کر