اصحاب احمد (جلد 7) — Page 226
225 کام روز ختم کرنا ضروری سمجھتے تھے اور روزانہ ڈاک کا جواب شام کو لکھ کر فارغ ہوتے تھے۔اس وجہ سے دفتری اوقات آپ کے لئے نا کافی تھے۔وعدہ جات کی تحریک کے دنوں میں میں نے آپ کو دفتر سے رات کے نو دس بجے سے قبل گھر جاتے ہوئے شاذ ہی دیکھا تھا۔سب سے آخر میں وعدوں کی مکمل رپورٹ اور دن بھر کے کام کا خلاصہ ۹ - ۱۰ بجے رات کے قریب حضرت اقدس کے حضور بھجواتے اور کچھ دیر تک انتظار فرماتے کہ حضور کی طرف سے رپورٹ کے ملاحظہ کے بعد کوئی استفسار نہ آجائے۔اس کے بعد گھر تشریف لے جاتے۔با وجود تعلیم کی کمی کے آپ کو اخبار کے لئے نوٹ لکھنے کا خاص ملکہ حاصل ہو گیا تھا اور آپ کا اسلوب تحریر ایک منفر درنگ اختیار کر گیا تھا جو بعد میں کسی سے نقل نہ ہو سکا۔آپ کے نوٹ پڑھنے والے جانتے ہیں کہ با وجود اپنی سادگی کے وہ کس قدر گہرے اثر کے حامل ہوتے تھے اور چندہ تھا کہ اس کے نتیجے میں انڈا چلا آتا تھا۔چندہ جمع کرنے میں آپ کو ایک خاص مہارت تھی۔دو چار لاکھ روپیہ کی تحریک کے لئے جمع کرنا آپ بہت معمولی بات سمجھتے تھے۔ریٹائرمنٹ کے بعد بقایا جات کی وصولی کا کام آپ کے سپر د کیا گیا۔جن دوستوں کو چندہ جمع کرنے کا تجربہ ہے وہ جانتے ہیں کہ بقایا جات بالخصوص طوعی چندوں کے بقائے وصول کرنا خاصہ مشکل کام ہے لیکن اس میں بھی مکرم چوہدری صاحب کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی اور آپ نے اس مد میں ایک کثیر رقم جمع کر کے تحریک جدید کو دی۔ریٹائر منٹ کے بعد مرحوم کی تمام تر توجہ پانچ ہزاری فوج کے ۱۹ سالہ حساب کی تدوین و ترتیب اور بصورت کتاب طباعت کی طرف رہی۔چنانچہ آپ کی مرتبہ یہ کتاب مخلصین کے ہاتھوں پہنچ کر خراج تحسین حاصل کر چکی ہے۔۱۹۴۷ء کے قیامت خیز ہنگامے میں ہجرت کے وقت خدا کے اس مخلص بندے کو اگر فکر تھا تو صرف اس بات کا کہ مخلصین جماعت کے چندوں کے حساب کا ریکارڈ کسی طرح پاکستان محفوظ پہونچ جائے۔چنانچہ اس غرض کے لئے متعدد بار فرمایا کہ اگر پیدل قافلہ جانے کی صورت ہو تو ایک ایک کھانہ ایک ایک کارکن کے سپرد کر دیا جائے تقسیم ( ملک) کے بعد جو دھامل بلڈنگ کے اسی کمرہ میں جو دفتر کے لئے الاٹ ہوا فروکش ہوئے۔ان کے ساتھ رہنے والوں کا بیان ہے کہ رات جب کبھی ان کی آنکھ کھلتی تو وہ اکثر مرحوم کو چندہ جات کا کھاتہ لئے ہوئے کام کرتے ہوئے پاتے۔غرضیکہ محترم چوہدری صاحب کی زندگی کام۔کام۔کام پر مشتمل تھی اور اسی دھن میں آپ نے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر دی۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کو غریق رحمت فرمائے اور ایسے مخلص اور بے لوث کارکنان کی وفات سے جو خلا پیدا ہوتا جارہا ہے وہ اپنے فضل سے پورا فرمائے (23)