اصحاب احمد (جلد 7) — Page 15
15 تھا میں بھی وہاں جا کر دیکھ آیا تھا۔یہ سب حق بات ہے لیکن ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ باوا صاحب کس طرح سے مسلمانوں کی سی نماز پڑھتے ہوں گے (8) جموں میں تعلیم پانا اور حضرت اقدس کے مکتوبات میں ذکر آپ بیان کرتے ہیں کہ ” پھر وہ مجھے حضرت مولانا المتر م حکیم نورالدین صاحب عم فریضہ کے پاس ( جموں ) لے گئے ( فرمایا کہ تم کو عربی پڑھا کر مولوی بنائیں گے، میں مہمانوں کی خدمت کرتا تھا، اپنی عدیم الفرصتی کی وجہ سے ) کچھ عرصے کے بعد انہوں نے مجھے مدرسہ میں (چوتھی جماعت میں ) داخل کر دیا اور خاکسار کی تعلیم دو سال کے وقفہ کے بعد پھر شروع ہوگئی (جیسا کہ تفصیل گذر چکی ہے ) ادھر میں تعلیم پاتا تھا ادھر میرے اصلی گھر (9)" میں زور شور سے رونا پیٹنا جاری تھا۔“ اس وقت مدرسہ میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب جیسے بزرگ بھی استاد تھے جن سے ماسٹر صاحب کو ☆ شرف تلمذ حاصل ہوا۔آپ جموں ۱۸۹۰ء میں پہنچے تھے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب کے نام اس عرصے کے حضرت مسیح موعود کے تین مکتوبات میں بھی ماسٹر صاحب کا ذکر آتا ہے۔چنانچہ ۲۴ مارچ ۱۸۹۱ء کو حضور رقم فرماتے ہیں: در شیخ عبدالرحمن صاحب نو مسلم لڑکا ایک ہفتہ سے میرے پاس ٹھہرا ہوا ہے۔اس کی طرف سے یہ آپ کی خدمت میں عرض ہے کہ اگر دو چار روز تک آپ نے لودہانہ میں تشریف لانا ہو تو وہ اسی جگہ ٹھہر ے دور نہ جموں میں آجاوے“ ایک اور مکتوب میں حضور تحریر فرماتے ہیں: (10) عبدالرحمن نو مسلم لڑ کا اسی جگہ پر ہے اور شاید ضعف کی حالت میں ابھی سفر کرنا آں مکرم کا مناسب نہ ہو اگر ایما فرما دیں تو نام بردہ کو آپ کی طرف روانہ کیا جائے (11)661) پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ ۱۸۹۰ء میں ماسٹر صاحب نے بیعت کی پھر ان ہی دنوں میں یا زیادہ سے زیادہ ۱۸۹۱ء کے آغاز میں آپ جموں چلے گئے ہوں گے۔یہ امور یقینی ہیں کہ آپ چوتھی میں داخل ہوئے اور ۱۸۹۶ء میں میٹرک کا امتحان دیا اور ایک سال آپ کا بجائے جماعت پنجم کے ششم میں داخل ہو کر بچ گیا تھا۔ان سب امور کو ملانے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ۱۸۹ء میں آپ نے چوتھی جماعت پاس کی اور چھ سال بعد ۱۸۹۷ء میں میٹرک کرتے لیکن ایک سال بچ جانے کے باعث ۱۸۹۶ء میں کیا۔گویا ۱۸۹۰ء کے اواخر میں یا آغاز ۱۸۹۱ء میں آپ حضرت مولوی صاحب کے پاس جموں پہنچ چکے تھے۔اس مکتوب میں عبد الحق غزنوی اور عبدالرحمن لکھوکے کی تحریرات کا ذکر ہے اور مکتوب مورخہ ۳۹۔۹ میں بھی اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مکتوب ۸۲ بھی اسی زمانے کا ہے اور ماسٹر عبدالرحمن صاحب کے تعلق میں مکتوبات ۷۲، ۷۵ کے ساتھ اس کا مضمون واحد ہے۔اس سے بھی اس کی تاریخ اسی عرصہ کی معلوم ہوتی ہے۔☆☆