اصحاب احمد (جلد 7) — Page 199
199 گڑھ شنکر کے السابقون الاولون خاکسار کے لئے یہ امر باعث ثواب ہے کہ گڑھ شنکر کے ان بزرگوں کا بھی کچھ تذکرہ کرے جو خاکسار کے بیعت کرنے سے بہت پہلے احمدی ہوئے تھے۔گڑھ تشکر میں پٹھانوں کے زمانہ کی بنی ہوئی ایک مسجد ہے جو کالی مسجد کے نام سے جغرافیہ میں بھی مشہور ہے۔احمدی احباب اس مسجد میں غیر احمدی ہونے کی حالت میں نماز پڑھتے تھے۔پھر جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا حکم احمدیوں کو الگ نماز پڑھنے کا ہوا تو کبھی احمدی الگ پہلے نماز پڑھ لیتے۔کبھی غیر احمدی۔(1) حضرت چوہدری امیر خاں صاحب آپ راجپوت قوم کے فرزند تھے۔اوپر آپ کا ذکر ہو چکا ہے بوجہ بڑھاپے کے آخر میں ان کی نظر اتنی کمزور ہو گئی تھی کہ ان کو صرف کچھ راستہ نظر آتا تھا۔یہ شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت میں ایسا چور تھا کہ مسجد میں سوٹے کے سہارے پہنچ جانا حتی کہ یہ نابینا شخص نماز تہجد مسجد میں آکر ادا کرتا۔اور حضور علیہ السلام کے کلمات طیبات سنے کا اتنا عاشق کہ حضرت ڈاکٹر محمد اسمعیل خاں صاحب مرحوم کے پاس گڑھ شنکر کے ہسپتال میں ضرور پہنچتا۔جب تک اخبار الحکم سن نہ لیتا اسے چین نہ پڑتا۔میں جب ۱۸۹۸ء میں پرائمری پاس کر کے گڑھ شنکر آیا تو اس وقت یہ احمدی تھے مجھے ان کے بیعت کرنے کا سنہ معلوم نہیں، اور ان کی وفات ۸۰ ( اتنی ) سال کی عمر میں ۱۹۰۰ ء کے لگ بھگ ہوئی تھی۔(۲) حضرت شیخ برکت علی صاحب مرحوم و مغفور ولد شیخ کرم بخش صاحب راہوں ضلع جالندھر کے باشندہ تھے۔مگر انہوں نے عرائض نویسی کے سبب ساری عمر گڑھ شنکر میں گذاری ان کی بیعت بھی کب کی ہے۔مجھے معلوم نہیں۔میں جب ۱۸۹۸ء میں اپنے نھیال سے آیا تو آپ اس وقت احمدی تھے، ان کی وفات ۳۰ رمئی ۱۹۳۳ء کو ہوئی اور آپ بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہیں۔آپ کی ساری اولاد در اولاد بفضلہ تعالیٰ احمدی اور خلافت سے وابستہ ہے۔آپ مؤلف اصحاب احمد کے دادا جان تھے۔() آپ جس مکان میں رہتے تھے اس کی چھت پر نماز تہجد پڑھتے اور پھر نماز فجر کے بعد نہایت بلند آواز سے بلا ناغہ قرآن کریم کی منزل پڑھتے ، ان کی آواز بہت دور تک پہنچتی تھی۔آپ غربا کی عرضی دعوی مفت لکھ دیتے اور علاقہ کے لوگ اکثر ان سے اپنی درخواستیں لکھواتے کیونکہ آپ تھوڑی اجرت پر کام کر دیتے تھے۔اس وجہ سے آپ کے گرد تحصیل میں سائلوں کا زیادہ ہجوم رہتا تھا۔(۳) حضرت حکیم چوہدری الہی بخش صاحب آپ کی قوم راجپوت تھی۔اس زمانہ میں احمدیوں کا طرہ امتیاز یہ تھا کہ چلتے پھرتے آتے جاتے تبلیغ کی طرف راغب رہتے۔چنانچہ حکیم صاحب کا معمول تھا کہ (۱) آپ گلے زئی قوم سے تعلق رکھتے تھے جو شیخ ملک اور بعض جگہ چوہدری کہلاتی ہے۔ہمارے اقارب میں شیخ اور ملک دونوں الفاظ استعمال ہوتے ہیں (مؤلف)