اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 198 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 198

198 ہیں اس لئے ڈاکٹری علاج نہیں کرانا چاہتے۔میں نے اس بزرگ حضرت چوہدری امیر خان صاحب مرحوم سے کہا کہ میں تو آپ کو ہسپتال چھوڑنے نہیں جاؤں گا، آپ کسی اور کے ساتھ جائیں کیونکہ مجھے ڈاکٹر پکڑ لے گا انہوں نے مجھے بہت تسلی دی۔آخر کار میں نے ان کے اصرار پر کہا کہ میں آپ کو ہسپتال کی دیوار تک چھوڑ آیا کروں گا اس سے آگے آپ کو ہسپتال کا کوئی ملا زم لے جائے۔اس طرح کچھ عرصہ میں ان کو ہسپتال تک چھوڑ آتا۔وہ وہاں اخبار الحکم سننے جاتے تھے، اس وقت حضرت ڈاکٹر محمد اسمعیل خاں صاحب آف گوڑیانی ضلع گوڑ گاؤں ہسپتال کے انچارج تھے، آپ بڑے بھاری بھر کم اور بڑے قد و قامت والے تھے اور بفضل خدا تعالیٰ سلسلہ احمدیہ کے بچے اور پکے (فدائی) اور عاشق صادق تھے۔آپ نے عملاً اپنا سب کچھ سلسلہ کے لئے قربان کر رکھا تھا۔آپ تہجد کے بھی پابند اور شب بیدار تھے۔اور اللہ تعالیٰ کے حضور نہایت سوز وگداز سے دعائیں کرنے والے تھے اور مخلوق خدا کی خدمت میں اس قدرا نہاک و شغف تھا کہ بغیر کسی فیس کے خیال کے مریضوں کو ان کے گھروں پر جا کر دیکھ آتے تھے۔“ ”میں نے پانچویں جماعت پرائمری تک تعلیم اپنے نتھیال میں اپنے ماموں چوہدری عالمگیر خاں صاحب مرحوم اور چوہدری بشارت علی خاں صاحب کے زیر سایہ بمقام سڑوعہ تحصیل گڑھ شنکر میں پائی بعد ازاں ور نیکٹر مڈل تک اپنے وطن میں۔میں نے ۱۹۰۰ء میں ور نیکٹر عمل کا امتحان دیا تو اس میں فیل ہو گیا اگر چہ اس زمانہ میں تعلیمی اخراجات برائے نام تھے اور حکومت تعلیم میں بہت رعایت کرتی تھی مگر میرے والدین اتنے غریب تھے کہ ان کو معمولی تعلیمی اخراجات کی برداشت کی بھی طاقت نہ تھی اس لئے میں والدین کے اشارہ پر تعلیم بند کرنے پر مجبور ہوا۔“ زمانہ طالب علمی کی دعا جب طاعون کے بعد شہر میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی تو میں چھٹی جماعت میں داخل ہو گیا۔میرے گھر سے سکول فاصلہ پر تھا۔اگر چہ میں نماز کا زیادہ پابندنہ رہا تھا مگر میں سکول جاتے وقت دل میں یہ دعا کرتا تھا۔یا اللہ مجھے ایسا رہنما اور پیشوا ملادے جو مجھے قدم قدم پر نیکی کی طرف توجہ دلائے اور بدی کے کاموں سے روکے۔“ آخر کار خدا کا کرنا یہ ہوا کہ میں نے ۱۹۰۰ء میں ور نیکر مڈل کا امتحان دیا لیکن اس میں فیل ہو گیا۔میرا کچھ لگاؤ حضرت ڈاکٹر محمد اسمعیل خاں صاحب گوڑیا نوی سے ہو گیا تھا۔اس لئے امتحان کے بعد ان کے پاس جاتا اور وہاں اخبار الحکم پڑھنا شروع کر دیا۔اس میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے کلمات طیبات ، در بارشام، سیر کے کوائف اور حضور کے الہامات باقاعدہ شائع ہوتے تھے جن کے پڑھنے سے دل کو اطمینان اور تسلی ہوتی اور میرا دل کہتا کہ ایسے شخص پر تو اپنا سب کچھ قربان کر دینا چاہیے۔