اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 174 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 174

174 کے مرد اور تمام عورتیں قادیان سے جانے کے لئے تیار ہو جائیں اور ٹرک ریلوے لائن پر بھٹہ کے پاس کھڑے ہوں گے وہاں سے ہی سوار ہونا پڑے گا۔چنانچہ ہم کھانا کھا کر اسباب سائیکل پر لاد کر باہر نکلے۔راستہ میں سکھوں کے ڈاکہ مارنے کا خوف تھا لیکن پہنچ بہ سلامت گئے۔سنا گیا کہ ایک پناہ گزین سے راستہ میں بستر سکھوں نے چھین لیا جو بعد میں شور کرنے سے ملٹری والوں نے لے دیا۔ٹرک پر خورشید احمد صاحب بیٹھے تھے انہوں نے کہا کہ لاری کے ڈرائیور سے ایک روپیہ فی سائیکل مقرر کر کے لاہور تک لے جانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔تین سائیکل ان کے تھے ایک میرا بھی چھت کے اوپر لاد دیا گیا۔میجر آیا اس نے ٹرکوں کو جانے سے روک دیا تا وقتیکہ ایک سو آدمی اور سوار نہ کرایا جائے۔چنانچہ بابا غلام فرید صاحب ایم اے پچاس مسافر لے آئے لیکن میجر راضی نہ ہوا اور اس نے خود جا کر بورڈنگ سے زبر دستی کوئی اور پچاس آدمی نکال لائے اور سوار کر وائے۔یہ بھی سنا گیا کہ دوملٹری پاکستان کے ٹرک حفاظت قادیان کے لئے آئے تھے۔لیکن قادیان کی ملٹری والوں نے ان کو واپس بھیج کر کہا کہ گورداسپور جا کر وہاں سے اجازت حاصل کرو چنانچہ وہ چلے گئے۔ایک بجے کے قریب ہمارے ٹرک روانہ ہوئے۔دعا سے رخصت ہوئے قادیان کو حسرت کی نگاہوں سے دیکھ کر الوداع کہا۔راستہ میں پہلے گے گذرے قافلوں قتل وغارت کی علامات ( بد بو اور چیتھڑوں کی صورت میں) دیکھنے میں آئیں۔مغربی پنجاب سے آئے ہوئے ہندوؤں اور سکھوں کے پیدل قافلے ملے جو نہایت سہولت سے جارہے تھے۔گڑوں پر اسباب لادے ہوئے تھے۔اناج اور گھر کا سامان چار پائیاں وغیرہ لادی ہوئی تھیں۔کچھ پیدل اور کچھ گڑوں پر سوار تھے۔واہگہ کے مقام پر ٹرک ٹھہرے لیکن ہمارے سامان کی تلاشی کسی جگہ بھی نہ ہوئی، دونوں حکومتوں کی سرحد پر تمام سواریوں کو ہیضہ کا ٹیکا لگایا گیا ایک کارڈ حوالہ کیا گیا جس میں پتہ وغیرہ اور آنے والوں کی تفصیل تحریر کر دی جانی ضروری تھی ، علاوہ ازیں انہوں نے پانی پلایا۔ایک ایک روٹی خواہشمندوں کو تقسیم کی۔بعض کو چائے پلائی، آزادی اور امن کی ہوا آئی اور پاکستان میں داخل ہوئے۔خدا کا شکر ادا کیا گیا لاہور پہنچنے پر ٹرک سے اترے اور سائیکل کا کرایہ ۵ روپے ڈرائیور کو ادا کیا گیا۔عزیزان۔۔۔وغیرہ آملے اور او پر مکان جو دھامل بلڈنگ میں لے گئے سب کو بخیریت پا کرخدا کا شکر ادا کیا۔ڈائری ۲۰ستمبر ۴۸ سویرے میں مسجد میں گیا۔مرزا صاحب ( مرزا عبدالحق صاحب امیر جماعت سرگودہا) کا درس سنا گیا۔وہاں بابو فضل دین صاحب اوورسیئر ملے۔جو کسی زمانہ میں قادیان کی کمیٹی میں ملازم رہ چکے تھے اور میرے مکان کی دوکانوں وغیرہ کا نقشہ ایام فسادات سے ذرا پہلے بنایا تھا۔آج کل احمد نگر کی جدید آبادی کے کام پر متعین ہیں اور یہاں کسی کام کے لئے آئے ہیں۔کھانا کھا کر دفتر کو روانہ ہوا، راستہ میں دوکان موسومہ بہ الاحمر پر شیخ بشیر احمد صاحب پراچہ نے اطلاع دی کہ سنا ہے کہ آج خلیفتہ اسیح نے چنیوٹ کی جدید عمارت کا