اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 157 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 157

157 صداقت احمدیت کے متعلق رویا اور بیعت کرنا بیعت سے قبل رویا ہونے اور بیعت کرنے کے متعلق آپ تحریر فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر حسب ذیل بیان جہاں تک کہ مجھے یاد ہے اپنے حافظہ اور یادداشت کی بناء پر صحیح صیح بلاکم وکاست اس غرض سے تحریر کرتا ہوں کہ بطور تاریخ سلسلہ محفوظ رہے اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی کا موجب ہو۔والله على ما اقول شهید۔شروع ماہ نومبر ۱۹۰۵ء میں بمقام بوتالہ جھنڈا سنگھ جب کہ خاکسار درباره دعویٰ حضرت مسیح موعود تحقیقات و دریافت کر رہا تھا اور کچھ کچھ بیعت کرنے کی طرف بھی راغب ہو چکا تھا۔مجھے ایک نہایت ہی معنی خیز اور پُر از معارف رویا دکھایا گیا جس کا تصور کر کے خاکسار اب بھی لذت وسرور سے معمور ہوجاتا ہے۔وہ رویا میں نے انہی دنوں میں اپنی ایک ڈائری میں قلم بند کر دیا تھا۔چنانچہ اب میں اس ڈائری کو سامنے رکھ کر یہ مضمون تحریر کر رہا ہوں۔(۱) میں نے دیکھا کہ میں قادیان میں گیا ہوں۔وہاں ایک مسجد اس قدر اونچی جگہ پر بنی ہوئی ہے کہ گویا وہ مکانوں کی چھت پر بنی ہوئی ہے۔میں سیڑھیوں کے ذریعہ جو اس مسجد کی شمالی جانب ہیں چڑھ کر مسجد میں پہنچ گیا ہوں۔اس وقت ایسا معلوم ہورہا ہے کہ رات کا وقت ہے۔چاند کی چاندنی ہے۔بہت سے لوگ جمع ہیں۔حضرت مرزا صاحب کھڑے ہو کر قرآن شریف ہاتھ میں لے کر وعظ فرما رہے ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد وعظ ختم ہو گیا اور لوگ سیڑھیوں کے راستے نیچے اترنے لگ گئے۔جب حضرت مرزا صاحب بھی اترنے کے لئے سیڑھیوں کے قریب آئے تو اس وقت میں نے انہیں السلام علیکم کہا۔حضور نے مجھ سے پوچھا کہ کہاں سے آئے ہو۔میں نے جواب عرض کیا۔جس پر حضور علیہ الصلوۃ والسلام بہت خوش ہوئے۔اس وقت میرے سر پر سبز پگڑی تھی اور حضرت مرزا صاحب کے اوپر سبز رنگ کی لوئی تھی۔جس کو حضور علیہ السلام نے خوش طبعی کے طور پر (جیسا کہ مجھے اس وقت محسوس ہوا ہے ) میرے اوپر ڈال دیا اور میرے سر اور منہ اور جسم پر لپیٹ دیا جس سے میں ڈھانپا گیا اس کے بعد پھر وہ لوئی اتار لی۔اس وقت حضور ( علیہ السلام ) ہنس رہے تھے۔پھر میں حضرت ممدوح کے ساتھ ہی سیڑھیوں سے نیچے اتر کر باہر آ گیا ، اور ایک بازار میں جو شرقاً غرباً ہے مشرق کے رخ حضور کے ہمراہ چلنے لگ گیا۔چلتے وقت حضور نے میرے پنجے میں پنجہ ڈالا ہوا ہے اور چلے جارہے ہیں۔میں نے عرض کیا کہ حضور میں نے بیعت کرنی ہے۔اس پر حضور نے فرمایا کہ کون سی بیعت کرنی ہے۔اس سوال کو سن کر میں متحیر سا ہو گیا کہ کیا جواب دوں۔آخر میں نے تھوڑی دیر سوچ کر جواب دیا کہ محمدی بیعت کرنی ہے کیونکہ ہم سب اُمتِ محمدی ہیں اور یہ بیعت بھی