اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 156 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 156

156 کھڑے ہو گئے۔ان میں سے ایک شخص جو ہم پر بہت امید رکھتا تھا یوں گویا ہوا، بے بے جی ! آپ کے خاندان کا ہمیں بہت لحاظ ہے لیکن آپ کے بیٹے نے پرانے طریقے کو چھوڑ کر نیا طریقہ اختیار کر لیا ہے وہ آپ کی بہت مانتا ہے اس لئے ہم آپ کو کہتے ہیں کہ اسے سمجھا ئیں اور اسے باز رکھیں۔اس پر میری والدہ صاحبہ نے نہایت جرات اور دلیری سے جواب دیا کہ اگر میرا بیٹا کوئی عیب کرے یا اس میں کوئی برائی پیدا ہوگئی ہو و ہیں اس کو روک سکتی ہوں لیکن مجھے اس کے عقیدے اور عمل میں کوئی برائی معلوم نہیں ہوئی اس لئے میں کیوں اس کو منع کروں۔اب تو جدھر اس کا راستہ ہے ادھر ہی ہمارا راستہ ہے۔یہ کھر کھرا جواب سن کر وہ سب اپنا سا منہ لے کر واپس چلے گئے اور یہ لفظ کہتے ہوئے باہر نکلے کہ مائی تو بڑی پکی ہے۔غرضیکہ اس کے بعد لوگوں کے مقاطعہ سے میرے دل کو بہت صدمہ ہوا۔گو ظاہری طور پر تو میرا وہ کوئی نقصان نہ کر سکے اور نہ ہی مجھے کوئی تکلیف دے سکے لیکن دوستوں اور آشناؤں کا خشک اور روکھا سلوک میرے جذبات کو بہت ہی صدمہ پہنچانے کا موجب ہوا اور میں ہر وقت اسی سوچ بچار میں افسردہ خاطر رہتا تھا کہ الہی یہ کیا ماجرا ہے، کیا تھا اور کیا ہو گیا۔چنانچہ اسی افسردگی اور پژمردگی کی حالت میں سخت اُداس ہو کر میں نے اپنے بڑے چچا مولوی احمد الدین صاحب کو جو بھیرہ ضلع شاہ پور میں مدرس تھے اور جو میرے خسر بھی تھے ایک خط لکھا اس میں میں نے چند پنجابی اشعار میں اپنے درد دل کا حال ظاہر کیا۔جان بیچاری کرماں ماری دکھاں دے منہ آئی میں غم کھانواں غم مینوں کھاوے فرق نہ اس وچ کائی روز ازل توں اللہ کو لوں قسمت ایہو لکھائی جمندیاں نال غماں دی گڑھتی دائی گھول پلائی یارا تے غم خوار تمامی چھوڑ گئے اشنائی جنھوں بلانواں میری طرفوں جاندا کنڈ بھنوائی میں ہرگز نال کسے دے رہا کیتی نہیں بُرائی پر انیویں جانی دشمن بن گئے رب دی بے پرواہی والد محترم جد کی تاج مبارک میرے کیتی سروں جدائی تختوں لیہ کے وختاں اندر عاجز جندڑی آئی