اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 111 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 111

111 دروازوں پر قفل لگائے اور فرماتے تھے کہ اب ان کو خدا تعالیٰ ہی کھولے گا۔جب حضور احمد یہ بلڈنگ میں مقیم تھے تو اکثر اسہال کی شکایت رہتی تھی۔حضور آخری لیکچر ”پیغام صلح، تصنیف فرمارہے تھے۔میری مرحومہ بیوی غلام فاطمہ بیگم نے اندرون خانہ جا کر دیکھا کہ لاہور کی بعض ہند و عورتیں زیارت کی خاطر حاضر خدمت ہوئیں یہ خیال کر کے کہ آپ کرشن اوتار ہیں بڑے ادب سے سلام کرتی تھیں اور زیارت کر رہی تھیں کہ حضور نے فرمایا کہ اب تو آپ زیارت کر چکی ہو چنانچہ ) پھر وہ عورتیں چلی گئیں۔(۲۳) جب حضور کا انتقال ۲۶ مئی کو بوقت دس بجے ہو گیا تو احمد یہ بلڈنگ کے پاس شور محشر برپا ہو گیا۔حضور کی نعش مبارک کو بذریعہ ریل پہنچانے کی تجویز ہوئی۔مخالفین نے ہیضہ کا بہانہ بنا کر ریل پر لے جانے سے روکا مگر ایک اعلی ڈاکٹر کے سر ٹیفکیٹ کے باعث کہ وفات ہیضہ سے نہیں بلکہ پرانی اسہال سے ہوئی ہے نعش مبارک ریل کے ذریعہ بٹالہ تک لائی گئی۔( از مولف) ڈاکٹر سدر لینڈ پرنسپل میڈیکل کالج لاہور کو حضرت اقدس کے آخری وقت میں بلایا گیا تھا۔ان سے سر ٹیفکیٹ لے لیا گیا تھا کہ وفات ہیضہ سے نہیں بلکہ اعصابی تکان سے اسہال سے ہوئی ہے۔(۲۴) ماسٹر صاحب نے بیان کیا کہ: ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بعد نماز مغرب مسجد مبارک میں شاہ نشین پر رونق افروز تھے۔میں نے عرض کی کہ بعض لوگوں نے میرے سامنے اعتراض کیا تھا کہ پنڈت لیکھرام اور عبداللہ آتھم کی پیشگوئیاں خدا کی طرف سے نہیں تھیں بلکہ انسانی دماغ اور منصوبہ کا نتیجہ تھیں۔میں نے انہیں یہ جواب دیا کہ اگر یہ پیشگوئیاں ظاہری عوارض اور کمزوریوں کی بناء پر ہوتیں تو حضور اس طرح پیشگوئی کرتے کہ لیکھرام جو جوان اور مضبوط اور تندرست انسان ہے اگر یہ رجوع کر لے تو بچایا جائے گا اور یہ کہ عبداللہ آتھم جو بوڑھا اور عمر رسیدہ ہے۔یہ بہر حال مرے گا مگر حضور نے ایسا نہیں کیا بلکہ ان عوارض ظاہری اور تقاضائے عمر کے اثرات کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ پیشگوئی کی کہ لیکھر ام اگر چہ نو جوان اور مضبوط ہے مگر وہ مر جائے گا اور عبداللہ آتھم اگر چہ بوڑھا ہے لیکن وہ اگر رجوع کرلے تو بچایا جائے گا۔اس پر حضرت صاحب بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ واقعی یہ اچھا استدلال ہے پھر فرمایا کہ دراصل پیش گوئی کے اعلان کے بعد عبد اللہ آتھم نے جلسہ گاہ مباحثہ میں ہی رجوع کر لیا تھا حمد ۲۴ مئی ۱۹۰۸ ء بعد عصر کی ڈائری میں وہ وعظ بھی درج ہے جو حضور نے ان عورتوں کے اصرار اور اخلاص کے باعث فرمایا۔(111)