اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 110 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 110

110 حضرت مسیح موعود کی تکفیر و تکذیب میں ایک مضمون اور رسالہ شائع کیا جس میں اس نے مباہلہ کا مضمون شائع کیا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو الہام کیا کہ میں اس ( چراغ دین کو ہلاک کروں گا اگر اس نے تو بہ کر کے قدیم علماء سے معافی نہ مانگی جن پر وہ اپنی فضیلت جتلاتا تھا * * خدا کا غضب اس پر نازل ہوا کہ پہلے اس کے دولڑ کے طاعون سے مر گئے۔پھر چراغ دین کو طاعون ہوگئی اور وہ بولتا تھا کہ اب تو خدا بھی میرا دشمن ہو گیا اس کی بیوی کو کوئی لے گیا، اس کا مسودہ مباہلہ لانے کے لئے حضور علیہ السلام نے مجھے جموں بھیجا اور مسودہ مباہلہ کا قادیان لایا گیا جس کا عکس حقیقۃ الوحی میں فوٹو سے لیا گیا ہے۔(۲۱) ایک دفعہ حضرت اقدس مسیح موعود نے مفتی فضل الرحمن صاحب ( مرحوم ) کو کسی ضروری کام کے لئے گورداسپور بھیجا۔وہ کام ختم کر کے حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے حضور اندر سے شربت وغیرہ لائے اور جب گول کمرہ میں مفتی صاحب کو دیکھا کہ سو گئے ہیں۔حضور شربت وغیرہ لے کر پندرہ بیس منٹ ان کے سرہانے کھڑے رہے۔جب مفتی صاحب بیدار ہوئے تو حضور کو کھڑے دیکھ کر سخت شرمندہ ہوئے بہر حال حضور اپنے خدام کی خدمت کے لئے خود دکھ اُٹھاتے تھے۔(۲۲) لاہور میں ٹرینگ کالج میں ٹرینڈ ہونے کے لئے صدر انجمن نے مجھے ۱۹۰۷ء میں بھیجا تھا اور ۱۹۰۸ء میں حضور بغرض تبدیلی آب و ہوا لا ہور تشریف لائے اور قادیان سے روانہ ہوئے۔اپنے مکان کے بعض یہ لفظ روایت کا حصہ ہے۔مؤلف ☆ ہے ہے حضور فرماتے ہیں کہ اس کے متعلق الهام هوانِى أُذِيْبٌ مَنْ يُرِيب ،،(109) میں فنا کر دوں گا۔میں غارت کروں گا۔میں غضب نازل کروں گا۔اگر اس نے شک کیا اور اس پر ایمان نہ لایا اور رسالت اور مامور ہونے کے دعوے سے تو بہ نہ کی۔اور خدا کے کے انصار سے جو سالہائے دراز سے خدمت اور نصرت میں مشغول اور دن رات صحبت میں رہتے ہیں۔ان سے عفو تقصیر نہ کرائی کیونکہ اس نے جماعت کے تمام مخلصوں کی توہین کی کہ اپنے نفس کو ان سب پر مقدم کر لیا ،، (110) چراغ دین مذکور کے حالات سے اطلاع دینے اور مسودہ حاصل کرنے کا کام دراصل حضرت قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی نے سرانجام دیا تھا۔۱۹۰۶ء میں حالات کے متعلق بدر میں آپ کا ایک خط شائع ہوا تھا جس میں درج تھا کہ اس کی عورت پر لوگ یاری آشنائی کا الزام لگاتے تھے ممکن ہے کہ وہ اس کی زندگی میں ہی خراب ہو اس بناء پر مخالفین نے روپیہ فراہم کیا اور بیوہ سے مقدمہ دائر کرانا چاہا لیکن جس دن مقدمہ دائر ہونا تھا اس صبح کو معلوم ہوا کہ وہ اپنے آشنا کے ساتھ غائب ہو چکی ہے۔اس طرح دشمن نامراد ہوا یہ حالات مع حضرت اقدس کے ایک مکتوب کے احباب اصحاب احمد جلد ہشتم ص ۱۴۰ تا ۱۴۷ میں ملاحظہ فرمائیں۔اس میں کوئی تضاد نہیں۔قاضی صاحب کے حالات و کوائف بہم پہنچانے پر حضرت اقدس نے ماسٹر صاحب کو مسودہ لانے کے لئے بھجوادیا ہو گا۔البتہ فراہمی قاضی صاحب کے ذریعے ہی ہوئی تھی۔