اصحاب احمد (جلد 7) — Page 94
94 ایک عربی اشتہار بھی شائع کیا گیا تھا جس کے اخراجات کا اندازہ تین صد روپے میں تھا۔آپ اس امر کی تغلیط کرتے ہیں کہ ایک ہی وقت میں متعدد تحریکات چندہ کامیاب نہیں ہوسکتیں حقیقت بھی یہی ہے کہ متنوع چندہ جات کی تحریکات میں بھی کامیابی کا ایک راز ہے۔ہر شخص پر اس کی میلان طبع کے مطابق تحریکات اثر انداز ہوتی ہیں کسی کو صدقات سے گہرا انس ہے اور کسی کو مساجد کی تعمیر سے اور کسی کو اشاعت کتب سے۔وهلم جدا الا یمان بین الخوف والرجاء اس میں کیا شک ہے کہ الايمان بين الخوف والرجاء ہے اور اگر کوئی کلمہ اس کے خلاف نکل جائے تو اس سے رجوع عین ایمان ہے چنانچہ اختیار الاسلام (حصہ چہارم ) میں دھرم پال کو مخاطب کر کے آپ کی قلم سے یہ الفاظ نکل گئے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ ہم دونوں میں سے کون بد فرجام اور نا مراد ہوکر مرتا ہے۔“ جلد بعد ہی آپ کو احساس ہوا کہ یہ کلمہ کہنا درست نہیں اس لئے آپ نے لکھا: (89) ہم نے صفحہ ۴۲ میں کسی جگہ غلطی سے لکھا ہے کہ دیکھیں ہم دونوں میں سے کون بدفرجام ہو کر مرتا ہے۔دراصل یہ جرات کا کلمہ ہے اس لئے میں ان الفاظ کو واپس لیتا ہوں کیونکہ بجز خاص اور متواتر الہامات الہیہ جو مضبوط یقین اور عرفان کے اعلیٰ مرتبہ تک پہنچاتے ہوں کسی کو اپنے انجام کی نسبت کو ئی کلمہ کہنار وا نہیں ہم میں سے ہر ایک کو اپنے انجام کی نسبت ترساں والرزاں بین النحوف والرجاء رہنا چاہئے اس ذرہ بے مقدار انسان کی حقیقت ہی کیا ہے اسے کیا معلوم کہ کل اس کا دل کدھر گردش کر جاوے گا۔صاحب الہام و کشف ہونا:۔اللہ تعالیٰ کا آپ پر خاص فضل تھا کہ آپ صاحب کشوف والہامات تھے آپ نے اس امر کا اپنی تصانیف میں بار ہا ذ کر کیا ہے چنانچہ اس امر کا کہ الہام ووحی کا دروازہ اس زمانہ میں بھی کھلا ہے ذکر کرتے ہوئے آپ میں مسلمان ہو گیا“ میں تحریر فرماتے ہیں : میں اس بات کو بیان کرنے سے شرم نہیں کرتا بلکہ تحدیث بالعمہ کے طور پر اقرار کرتا ہوں کہ محض خدا کے فضل و کرم سے بار ہا مجھے بھی الہام ہوا۔اور اس ذات پاک کی آواز سنائی دی جو زمین و آسمان کا خالق ہے میں اپنے کانوں سے اور روحانی قومی سے الہامات اور مکاشفات کو آزما چکا ہوں اس لئے مجھے الہام وغیرہ سے انکار کرنا يد الحكم ۲۱۔۲۸ فروری ۱۹۱۱ء غالباً یہی عربی اشتہار ہے جو بصورت اردو میں ” میں مسلمان ہو گیا، حصہ دوم ( طبع دوم ) صفحہ ۱۱۸ پر درج ہے وہاں مرقوم ہے کہ یہ وہ اشتہار ہے جو عربی و فارسی میں لکھ کر بلا دعرب و شام و مصر ارسال کیا گیا تھا۔حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب ناظر امور خارجہ نے مجھ سے ذکر کیا کہ ماسٹر صاحب کا شائع کردہ عربی ، انگریزی اور فارسی کا اشتہار میں نے ۱۹۱۴ء میں بیروت میں پہنچا ہوا پایا تھا۔