اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 66 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 66

66 میں خلافت ثانیہ کے قیام کی شکل میں ظاہر کئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جماعت کے بیشتر حصہ کو فتنہ سے محفوظ رکھا۔اور بالآ خر اہل پیغام خود ہی تشئت و افتراق کی ایک منہ بولتی تصویر بن گئے۔ان کی موجودہ حالت کو دیکھ کر خلافت اولی کے آخری ایام اور خلافت ثانیہ کے آغاز کے ہولناک حالات کا اندازہ کرنا ان لوگوں کیلئے مشکل ہے۔جنہوں نے نہ وہ زمانہ پایا ہے اور نہ ہی اسبارہ میں تفصیلی لٹریچر ان کی نظر سے گذرا ہے۔اب ان کے اثر و رسوخ کا فلک بوس قلعہ پیوند خاک ہو چکا ہے۔انہوں نے اپنی کمین گاہ سے خفیہ ریشہ دوانیوں کا بھی ایک وسیع جال پھیلایا تھا۔باوجود یکہ حضرت خلیفہ اول کی وصیت دربارہ انتخاب خلیفہ پر مولوی محمد علی صاحب کے بھی دستخط موجود تھے۔لیکن انہوں نے پھر بھی مزاحمت کرنا چاہی۔رض وحدت جماعت کے پارہ پارہ ہونے کا شدید خطرہ لاحق تھا۔سیدنا حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب اور اہل بیت آمادہ تھے کہ دوسرا فریق جسے چاہے ہم بھی اُسے ہی خلیفہ تسلیم کریں گے۔تا وحدت قائم رہے۔لیکن اہل پیغام در حقیقت سرے سے خلافت کا نظام ختم کرنے کے درپے تھے۔اللہ تعالیٰ کی تقدیر جلوہ گر ہوئی اور نوشتے پورے ہوئے اور جماعت نے حضرت صاحبزادہ صاحب کو خلیفہ منتخب کر لیا۔اہل پیغام نے خلافت ثانیہ کے قیام کے بعد بھی اپنا پورا جتن کیا۔کبھی شرائط بیعت کے متعلق غلط فہمی پھیلائی کہ اس میں ایک شرط یہ ہے کہ فلاں فلاں شخص کو منافق سمجھا جائے یا کہا جائے۔یہ بھی الزام لگایا کہ حضور ایدہ اللہ کو مدت سے خلافت کی خواہش تھی وغیرہ۔لیکن اللہ تعالیٰ نے بالآخر ان لوگوں کے کید و مکر کو خاک میں ملا کر ان کو خائب کر دیا اور خلافت ثانیہ کو جو عظمت وشان اور رفعت اور عالی مقام بخشا ہے۔محتاج بیان نہیں۔۱۲ / اپریل ۱۹۱۴ء کے لئے مولوی سید محمد احسن صاحب نواب محمد علی خان صاحب ، ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اور مولوی شیرعلی صاحب کے دستخطی اعلان سے حسب ارشاد حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی شوری کیلئے نمائندگان مدعو کئے گئے۔(37)۔اس میں آپ نے خلفاء کے کام کی تشریح کی۔اور اس اعتراض کا جواب بتایا کہ خلیفہ پر مشورہ کی پابندی نہیں تو اس مشورہ کا فائدہ کیا ہوتا ہے اور تبلیغ کو وسعت دیکر تمام زبانوں کے جاننے والے مبلغ تیار کرنا اور ہندوستان میں تبلیغ کا جال پھیلانا اور دنیوی ترقی کیلئے اپنا کالج قائم کرنا اپنا پروگرام بتایا۔حضور نے غور کیلئے یہ تجاویز پیش کیں کہ حضرت مسیح موعود کی ایک رویاء کی بناء پر ہر قسم کا چندہ میری معرفت بھیجیں۔مجلس شوری کی ایسی صورت ہو کہ ساری جماعت کا اس میں مشورہ ہو۔فی الحال دو تین علماء بطور ممبر انجمن میں زائد کئے جائیں تا کہ اختلاف کی وجہ سے دیتیں پیدا نہ ہوں۔اس اجلاس میں جو سید محمد احسن صاحب امروہوی کی زیر صدارت منعقد ہوا ایک فیصلہ یہ ہوا کہ ” قواعد صدر انجمن کی دفعہ ۱۸ میں الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جگہ حضرت خلیفہ اسیح مرزا بشیر الدین محمود احمد