اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 38 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 38

38 هوا الهادى بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ نِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ - 66 مسکین ضیاء الدین عفی عنہ سے بخدمت جمیع حصار مجلس جمعہ جامع مسجد کوٹ قاضی بعد سلام مسنون عرض آنکہ ”ہورا مکی کام جنہال کا ہے یا جٹوں کا جوزمین کے فضول تنازعوں پر مرتے ہیں۔علماء فضلاء کا کام قلم سے غالب آتا ہے۔سوالحمد للہ یہ عاجز بفضلہ تعالیٰ تمہارے دعوتی مولویوں پر از راہ قلم غالب آ رہا ہے۔اب ناحق کی کوششوں سے سورج چھپ نہیں سکتا۔اور نہ چاند پر تھوکنے کا کچھ اثر۔اور اگر کچھ شک و تنازع ہو تو بحکم نص قرآنی فان تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْيٌّ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَ الرَّسُولِ الخ کے خدا اور رسول کے فیصلہ پر راضی ہو جاؤ۔اور وہ یہ ہے کہ جن آیتوں سے میں نے وفات مسیح و عدم تکفیر اہل کلمہ ثابت کی ہے۔آپ خلاف اس کے حسب شروط مفصلہ رسالہ ہذا ثابت کر کے دکھلا دیں۔اور اگر اس میدان میں اپنا لنگڑا اپن دکھلایا اور کچھ بن نہ پڑا۔اور خدا چاہے کچھ بنا بھی نہیں۔تو پھر سب صاحب اس تفریق جماعت و ایذاء اہلِ کلمہ سے باز رہیں۔ایذاء غربا کچھ بہادری نہیں۔غضب الہی سے ڈریں۔جس کا تدارک مشکل ہوگا۔شرم۔شرم شرم۔وما علینا الا البلاغ۔مکرر آنکہ یہ سب خیر خواہی ہے۔ورنہ راقم کو جو ایک آزاد روش ہے۔بہر حال اس کا مولا کریم اس کو بس ہے۔66 محرره ۹/ صفر ۱۳۱۳ھ بروز جمعه قبل جمعہ “ اس سے عیاں ہے کہ آپ دلیر طبع اور نڈر تھے۔ورنہ جس وقت ہر چہار طرف مخالفت کی آگ مشتعل تھی اور اعداء در پے آزار تھے۔خاص دل گردہ کا مالک جو نور ایمان سے منور ہوایسی بے باکی سے تبلیغ کرسکتا ہے۔اس وقت ان کے گاؤں بلکہ علاقہ میں احمدی معدودے چند ہی ہوں گے۔قاضی ظفر الدین کے سامنے لکھا ہے۔یہ صاحب میرے بھانجہ حقیقی ہیں۔عالم متجر ہیں۔لیکن مسائل ضرور یہ اخلاقیہ میں خوض نہیں رکھتے۔اس کم تو تجہی کی وجہ سے مرزا صاحب کے علوم کی برکات سے بے بہرہ ہیں۔بلکہ کچھ۔** بغض وحسد عالمانہ بھی ہے۔“ * سورة النساء - آیت ۶۰ ** یہ لفظ پڑھا نہیں گیا - مؤلف