اصحاب احمد (جلد 6) — Page 37
37 نواب صدیق حسن خاں نے بدور الاھلہ میں جو امام شوکانی" کی تفسیر بابت وَلكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْراً لکھی ہے۔اس کو بطور دلیل پیش کیا ہے (ص ۱۵) (4)۔اسی تعلق میں امام ابن قیم کی ایک کتاب کا بھی حوالہ دیا ہے۔اور اس کی تائید میں اشاعۃ السنہ کا حوالہ بھی درج کیا ہے۔(ص۱۹) (۷) راجح مسند اور مریخ کی اصطلاحات کا بھی ذکر کیا ہے۔(ص۱۹) دلیرانه تبلیغ: آپ نے یہ رسالہ چیدہ چیدہ مخالفین اور زیر تبلیغ افراد کو بھیجا۔روز نامچہ میں لکھا ہے کہ مکرم حکیم فضل الہی صاحب سے لاہور سے ۱۴ جیٹھ سمہ ۱۹۵۲ (۲۶ مئی ۱۸۹۵ء) کو ایک سورسالہ پہنچا۔اور گل چارسو چھپا تھا۔جو تین سو تک ممبران انجمن فرقاضیہ لاہور کی معرفت اس کے نواح میں تقسیم ہوا۔جن افراد کو آپ نے رسالہ دیا۔ان کے اسماء بقید قوم و سکونت آپ نے تاریخ وار درج کئے ہیں۔کیفیت کے خانہ میں مختلف نوٹ دیئے گئے ہیں۔میاں نظام الدین صاحب کے سامنے یہ نوٹ دیا ہے: یہ صاحب اس مباحثہ میں ثالث بنے تھے۔اور حق ”وَ إِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا * کا ادا کیا اور مولویوں کی شکست اور ناحق پر ہونا ثابت کیا۔جَزَاهُ اللهُ عَنَّا“ اور اکثر ناموں کے سامنے وہ عبارت نقل کی ہے۔جو رسالہ کے اوپر اپنے قلم سے فرداً فرداً بطور تبلیغ و تنیہ کے مختلف لوگوں کو ہر ایک کے حالات کے مطابق لکھ کر بھیجی۔ایک نسخہ ۲/ اگست ۱۸۹۵ء کو جامع مسجد کوٹ قاضی کے تمام حضار“ کو بروز جمعہ روانہ کیا۔قومیت کے خانہ میں اہل اسلام برائے نام لکھا ہے اور سکونت کے خانہ میں کوٹ قاضی نہ نہ بلکہ دارالحرب درج کیا ہے۔جس سے شدت مخالفت کا اندازہ ہوتا ہے۔کیفیت کے خانہ میں مندرجہ ذیل عبارت بھی مرقوم ہے: یہ رسالہ بروز جمعہ خاص اس موقعہ پر جواکثر دوست و دشمن جمع تھے۔بغرض ابلاغ حق اپنے بیٹے عزیز عبداللہ کے ہاتھ بھیجا گیا۔اس جمعہ سے پہلے جمعہ کے دن مخالفین نے ازراہ ظلم عاجز کو مع معاونین کے نماز جمعہ پڑھنے سے روک دیا اور تخلصم قاضی محمد یوسف کو مارا بھی۔لاکن صبر کیا گیا۔اور اس جمعہ میں لڑائی کے واسطے سب لوگ تیار تھے اور رسالہ کے سرورق پر * یہ عبارت لکھ بھیجی۔سورۃ الانعام۔آیت ۱۵۲