اصحاب احمد (جلد 6) — Page 27
27 بسا اوقات محض خدا تعالیٰ کے خوف سے اپنے والد اور اپنے بھائی کے برخلاف گواہی دی اور سچ کو ہاتھ سے نہ چھوڑا۔اس گاؤں میں اور نیز بٹالہ میں بھی میری ایک عمر گذرگئی ہے۔مگر کون ثابت کر سکتا ہے کہ کبھی میرے منہ سے جھوٹ نکلا ہے۔پھر جب میں نے محض اللہ انسانوں پر جھوٹ بولنا ابتداء سے متروک رکھا اور بار ہا اپنی جان اور مال کو صدق پر قربان کیا تو پھر میں خدا تعالیٰ پر کیوں جھوٹ بولتا۔اور اگر آپ کو یہ خیال گذرے کہ یہ دعویٰ کتاب اللہ اور سنت کے برخلاف ہے۔تو اس کے جواب میں با ادب عرض کرتا ہوں کہ یہ خیال محض کم فہمی کی وجہ سے آپ کے دل میں ہے اگر آپ مولویا نہ جنگ و جدال کو ترک کر کے چند روز طالب حق بن کر میرے پاس رہیں تو میں امید رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ آپ کی تمام غلطیاں نکال دے گا اور مطمئن کر دے گا اور اگر آپ کو اس بات کی بھی برداشت نہیں تو آپ جانتے ہیں کہ پھر آخری علاج فیصلہ آسمانی ہے۔مجھے اجمالی طور پر آپ کی نسبت کچھ معلوم ہوا ہے۔اگر آپ چاہیں تو میں چند روز توجہ کر کے اور تفصیل پر بفضلہ تعالیٰ اطلاع پاکر چند اخباروں میں شائع کر دوں۔اس شائع کرنے کیلئے آپ کی خاص تحریر سے مجھ کو اجازت ہونی چاہئے۔میں اس خط کو محض آپ پر رحم کر کے لکھتا ہوں۔اور یہ ثبت شہادت چند کس آپ کی خدمت میں روانہ کرتا ہوں۔اور آخر دعا پر ختم کرتا ہوں۔رَبَّنَا افْتَحُ بَيْنَنَا وَ بَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِيْنَ۔آمین۔“ الراقم خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ۳/ دسمبر ۱۸۹۲ء اس خط پر حضور نے پندرہ احباب کی گواہی درج کروائی جن میں حضرت مولوی نورالدین صاحب اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب بھی شامل ہیں۔ایک گواہ قاضی ضیاء الدین ساکن کوٹ قاضی ضلع گوجر انوالہ بھی ہیں۔(11) مولوی محمد حسین نے بہت ہی لچر اور دل آزار جواب دیا۔جسے مع جواب حضور نے اس کتاب میں درج فرما دیا۔حضرت مولوی عبد اللہ غز نوٹی کی مولوی محمد حسین کے متعلق پیشگوئی: مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی حضرت اقدس کے بچپن کے ہم سبق تھے۔انہوں نے براہین احمدیہ پر