اصحاب احمد (جلد 6) — Page 19
19 یہ قرار پایا کہ اسلام کے متعلق ایک رسالہ تیار کر کے یورپ اور امریکہ ارسال کیا جائے اور قادیان میں قیام مطبع کے لئے تجاویز پیش ہونے کے بعد اعانت مطبع کے لئے چندہ کی فہرست مرتب ہوئی۔یہ بھی طے ہوا کہ ایک اخبار جاری کیا جائے اور سید محمد احسن صاحب امروہی کو واعظ مقرر کیا جائے۔اور وہ ہندوستان میں دورہ کریں۔یہ بھی بتایا گیا کہ آئندہ بھی جلسہ سالانہ کے یہی مقاصد ہوں گے یعنی اشاعت اسلام اور ہمدردی نومسلمین امریکہ اور یورپ کے لئے تجاویز سوچنا۔اور تقوی طہارت کو ترقی دینے اور اخلاق ورسوم قبیحہ کو قوم میں سے دور کرنے کی کوشش کرنا۔ان اغراض کے پورا کرنے اور دیگر انتظامات کرنے کے لئے ایک کمیٹی تجویز کی گئی۔جس کے صدر حضرت مولوی نورالدین صاحب قرار پائے۔حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ۲۸ دسمبر کو جو کارروائی تحریر کی ہے۔اس میں رقم فرماتے ہیں: ایک صاحب نے صبح کو بعد نماز صبح عبداللہ صاحب غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک خواب سنایا۔جب کہ عبداللہ صاحب خیر دی گاؤں میں تشریف رکھتے تھے۔عبداللہ صاحب نے فرمایا۔ہم نے محمد حسین بٹالوی کو ایک لمبا گر تہ پہنے دیکھا اور وہ کر نہ پارہ پارہ ہو گیا۔یہ بھی عبداللہ صاحب نے فرمایا تھا کہ کرتے سے مراد علم ہے۔“ (4) حضرت عرفانی صاحب تحریر فرماتے ہیں: حضرت میر ناصر نواب صاحب نے دوسرے ایک بزرگ کا ذکر کیا ہے۔جنہوں نے اس جلسہ پر حضرت مولوی سید عبداللہ صاحب غزنوی کا ایک رؤیا مولوی محمد حسین صاحب کے متعلق بیان کیا تھا یہ بزرگ حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب قاضی کوٹ ضلع گوجرانوالہ کے ایک نہایت ہی مخلص اور حضرت اقدس کے فدائی تھے۔مولوی عبداللہ غزنویؒ سے بھی انہوں نے بیعت کی ہوئی تھی۔اور مولوی محمد حسین صاحب سے بھی تعلقات رکھتے تھے۔اس لئے کہ خود مولوی محمد حسین صاحب بھی غزنوی کے خاص معتقدین میں سے تھے۔“ (5) گذشته سال جلسہ پر صرف پچھتر افراد آئے تھے۔اور اس دفعہ پانصد۔جو احباب اور مخلص محض اللہ شریک جلسہ ہونے کیلئے دور دور سے تشریف لائے تھے۔ان کی تعداد تقریباً سوا تین صد تھی اور ان کے اسماء آئینہ کمالات اسلام میں مرقوم ہیں۔ان میں ضلع گوجر انوالہ کے صرف چھ سات افراد کے اسماء درج ہیں۔جن میں سے ۱۰۴ نمبر پر