اصحاب احمد (جلد 6) — Page 18
18 ہے۔یہ کتاب ۲۰ دسمبر ۱۸۹۵ء کو شائع ہوئی تھی۔آپ کے روز نامچہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ۳ جنوری ۱۸۹۷ء کو قادیان کا جو سفر آپ نے کیا۔اس میں سے پانچ دن لاہور جلسہ اعظم مذاہب میں شریک ہونے کے لئے ٹھہرے۔یہ وہی جلسہ تھا جس میں حضور کا مضمون اسلامی اصول کی فلاسفی پڑھا گیا تھا۔یہ جلسہ ۲۶ تا ۲۹ دسمبر ۱۸۹۶ء کو منعقد ہوا تھا۔اور اس میں الہام بالا رہا“ پورا ہوا تھا۔اصحاب احمد عشاق احمد تھے۔حضرت اقدس کی زیارت کے بغیر ماہی بے آب کی طرح تڑپتے تھے اور کثرت سے حضور کی ملاقات کے لئے آتے اور اکتساب فیض کے مواقع پاتے تھے۔اللہ تعالیٰ ہم تابعین کو بھی حضرت امام جماعت ایدہ اللہ اور مرکز سے ایسا ہی عشق عطا کرے۔آمین۔مقدمات کے سفروں میں رفاقت : روز نامچہ کے اندراجات سے ظاہر ہے کہ حضرت اقدس کے مقدمات کے سلسلہ میں سفروں میں رفاقت کا بھی قاضی ضیاءالدین صاحب کو موقع ملتا رہا ہے۔مثلاً ا۔مقدمہ پر گیا ۱۹۰۱ء میں مرقوم ہے : "۱۵ / لغایت ۲۹ جنوری جہلم کے سفر میں جب کہ حضرت امام علیہ السلام کیساتھ " ۱۹۰۳ء میں درج ہے: ۱۶/ اکتوبر در گورداسپور جمعیت امام صاحب ** *** اور آگے چل کر لکھا ہے: ۱۲ لغایت ۱۸ نومبر در سفر گورداسپور بہمراہی امام علیہ السلام ** جلسه سالانه ۱۸۹۲ء میں شمولیت : ۲۷ تا ۲۹ / دسمبر ۱۸۹۲ء میں قادیان میں جلسہ سالانہ منعقد ہوا۔پہلے روز حضرت مولوی نور الدین صاحب نے وفات عیسی اور نزول مسیح کے بارے میں تقریر کی اور حضرت اقدس نے علماء کی طرف سے جو تکفیر کی گئی تھی۔اس کا جواب دیا اور آسمانی نشانوں سے اپنے مسیح موعود ہونے کا ثبوت دیا۔اور جماعت کو باہمی محبت اور تقویٰ و طہارت کے متعلق نصیحت کی۔اگلے روز ۲۸ / دسمبر کو حاضرین کی اظہار رائے کے بعد روز نامچہ میں یا وہاں سے نقل کرتے وقت سہو ہو گیا ہے۔جہلم کا سفر ۱۹۰۳ء میں ہوا جیسا کہ دوسری جگہ قاضی عبدالرحیم صاحب کی ایک روایت میں تفصیل دی گئی ہے۔** *** ۱۶ اکتوبر ۱۹۰۳ء کو حضرت اقدس کے تشریف لے جانے کا ذکر الحکم ۱۰/۱۹۰۳/ ۱۷ص۲۳ میں ہے۔۱۱ نومبر ۱۹۰۳ء کو حضرت اقدس کے گورداسپور تشریف لے جانے کا ذکر البدر ۱۶/۱۱/۳ ۱ص ۳۳۲ میں موجود ہے۔