اصحاب احمد (جلد 6) — Page 150
150 ہجرت کر آئے اور دارالامان کی بابرکت بستی اور حضرت امام الزمان کی روح پرور اور ایمان افزا مجالس سے مستفیض ہوتے رہے اور آپ کی روحانی حالت روز بروز ترقی کرتی گئی۔اور آپ کی وفات سے قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ کی نیک عاقبت اور اللہ تعالیٰ کی رضاء کے حصول کی اطلاع دی گئی۔چنانچہ حضور اپنی کاپی میں 9 / جنوری ۱۹۰۴ء کے تحت ذیل کی رؤیا لکھتے ہیں: میں نے دیکھا کہ گویا مبارک کے بدن پر کچھ لرزہ ہے۔میں اس کو گولی دینا چاہتا ہوں اور باہر قاضی ضیاء الدین کھڑا ہے۔میں چاہتا ہوں اس کو ایک روپیہ شیرینی لانے کے لئے دوں۔(96) اس رویا میں بتایا گیا تھا کہ صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کی عمر ابھی باقی تھی۔گویا ان کی صحت کیلئے دوائی دی جاسکتی تھی۔(چنانچہ صاحبزادہ صاحب اس کے بعد قریباً پونے چار سال تک زندہ رہے۔اور ۶ استمبر ۱۹۰۷ء کو فوت ہوئے) لیکن قاضی صاحب کو صحت اور زندگی کے لئے کوئی گولی نہ دی گئی۔کیونکہ ان کی زندگی کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ہاں یہ خبر دی گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آپ کو حلاوتِ ایمان حاصل ہے۔اور آپ کا انجام خیر (شیریں) اور عاقبت نیک اور محمود ہوگی۔چند ماہ بعد قاضی صاحب مرض الموت میں مبتلا ہوئے۔تو آپ کی درخواست دعا موصول ہونے پر حضرت اقدس نے آپ کی صحت کیلئے دعا فرمائی۔اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ آپ وفات پاچکے ہیں۔یہ خبر ایسے الفاظ میں ہے کہ جن سے ترحم اور شفقت مترشح ہوتی ہے۔یہ مقدس اور پاک گروہ خالص اور دلی مجنوں کی وحی الہی کا اولین مصداق تھا اور حضوران کی تطہیر و تزکیہ کیلئے دست بدعا ر ہتے تھے اور ان کی تربیت بھی فرماتے تھے۔یہ احباب برگزیده مسیح سے تازہ بتازہ وحی الہی سنتے اور زندہ معجزات و خوارق کا مشاہدہ کرتے تھے۔بلکہ ان کے اپنے نفوس۔خاندانوں اور وطنوں میں بھی ایسے معجزات ظاہر ہوتے تھے۔اور ان کے ازدیاد ایمان اور اغیار پر محبت کا باعث ہوتے تھے۔یہی وہ بزرگ تھے جو وَ آخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ کی آیت کے مصداق تھے۔ان کی قربانیاں اور بے غرضانہ خدمات اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ والہانہ عشق ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا مثیل ثابت کرتا ہے۔ان کا پاک نمونہ قیامت تک راہ سلوک طے کرنے والوں کیلئے مشعل راہ کا کام دے گا۔اے اللہ ! تو اس پاک گروہ پر اپنے بے شمار فضل نازل فرما۔اور ہمیں ان کا سچا جانشین بنا۔آمین۔اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَ بَارِكُ وَ سَلَّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ۔وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ آمِيْن ثُمَّ آمِين۔